حیدرآباد میں GCC توسیع سے 75,000 سے زیادہ ملازمتیں | Hyderabad GCC Growth
حیدرآباد:۔ حیدرآباد کا GCC نظام تیزی سے وسعت اختیار کر رہا ہے۔ FICCI اور Anarock کی مشترکہ رپورٹ نے بڑی پیش رفت کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگلے 3 سے 5 سال میں 75,000 سے زیادہ اعلیٰ ہنر والی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔
مزید برآں، شہر میں 8-12 ملین مربع فٹ اضافی دفتری طلب پیدا ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کا عنوان “Hyderabad: The Rise of a Global Capability Powerhouse” ہے۔ اس میں اگلے ایک سال میں 50-70 نئے GCCs قائم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
GCC توسیع سے روزگار کے نئے مواقع | Hyderabad GCC Growth
رپورٹ کے مطابق نئے مراکز ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ میں قائم ہوں گے۔ اس کے علاوہ BFSI، لائف سائنسز، اینالیٹکس اور کنسلٹنگ بھی اہم شعبے ہوں گے۔ ڈیجیٹل آپریشنز بھی اس توسیع کا اہم حصہ بنیں گے۔
حیدرآباد میں 2026 کی پہلی سہ ماہی تک 515 سے زیادہ GCCs موجود تھے۔ ان مراکز میں 300,000 سے زیادہ ماہرین کام کر رہے تھے۔ یوں شہر بھارت کے تقریباً 20فیصد GCC مراکز کی میزبانی کر رہا ہے۔
اسی دوران، مالی سال 2025 میں حیدرآباد نے 70 سے زیادہ نئے GCCs شامل کیے۔ یہ تعداد بھارت کے بڑے GCC مراکز میں سب سے زیادہ رہی۔ بنگلورو میں 30-35، پونے میں 15-20 اور چنئی میں 12-15 نئے مراکز شامل ہوئے۔
تاہم GCC سرگرمی اب روایتی IT اور IT-enabled services تک محدود نہیں رہی۔ شہر میں تحقیق و ترقی، انجینئرنگ اور اینالیٹکس کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل آپریشنز اور کارپوریٹ فیصلوں سے متعلق کام بھی بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ نے اس تبدیلی کو ایک اہم رجحان قرار دیا ہے۔ GCCs اب بیک آفس خدمات سے آگے بڑھ کر اعلیٰ قدر والے عالمی کام سنبھال رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے حیدرآباد کی کارپوریٹ معیشت میں مزید قدر پیدا ہونے کا امکان ہے۔
حیدرآباد میں مختلف شعبوں کے GCCs پہلے ہی فعال ہیں۔ ان میں ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، بینکنگ، مالیاتی خدمات اور فارماسیوٹیکل شامل ہیں۔ مزید برآں، سیمی کنڈکٹرز، ایرو اسپیس، دفاع اور آٹو موٹیو شعبے بھی شامل ہیں۔
صحت، صارفین، ریٹیل، میڈیا اور اسپورٹس ٹیکنالوجی بھی اس دائرے میں شامل ہیں۔ شہر میں Microsoft، Google، Amazon، Apple اور Wells Fargo موجود ہیں۔ اسی طرح JPMorgan، Novartis، Qualcomm اور Boeing بھی اپنی سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔
دفتری طلب اور رئیل اسٹیٹ میں تیزی | Hyderabad GCC Growth
بنگلورو 880 سے زیادہ مراکز کے ساتھ بھارت کی سب سے بڑی GCC مارکیٹ ہے۔ تاہم رپورٹ میں حیدرآباد کو 4 بڑے مراکز میں سب سے تیزی سے بڑھتا شہر قرار دیا گیا ہے۔ شہر کی مسابقتی طاقت کئی عوامل سے جڑی ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق دستیاب ٹیلنٹ حیدرآباد کی بڑی طاقت ہے۔ شہر میں تقریباً 1 ملین IT ماہرین کا افرادی ذخیرہ موجود ہے۔ مزید برآں، ہر سال تقریباً 400,000 STEM گریجویٹس دستیاب ہوتے ہیں۔
حیدرآباد نے BFSI اور لائف سائنسز میں بھی مضبوط بنیاد بنائی ہے۔ اس کے علاوہ سیمی کنڈکٹر، ایرو اسپیس اور انجینئرنگ صلاحیتیں بڑھ رہی ہیں۔ ریاست کا TS-iPASS نظام بھی کاروباری ماحول کو سہولت دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اہل عمل کے لیے 15 دن میں منظوری کی ضمانت بھی موجود ہے۔ اسی دوران GCC توسیع نے کمرشل پراپرٹی مارکیٹ کو بھی متاثر کیا ہے۔ GCC دفتری لیزنگ 2021 میں 1.9 ملین مربع فٹ تھی۔
یہی طلب 2025 میں بڑھ کر 4.5 ملین مربع فٹ ہوگئی۔ مزید برآں، 2026 کی پہلی ششماہی میں 3 ملین مربع فٹ سے زیادہ جگہ ریکارڈ ہوئی۔ یوں GCCs حیدرآباد کے دفتری بازار کا اہم محرک بن گئے ہیں۔
حیدرآباد میں تقریباً 125 ملین مربع فٹ Grade-A دفتری اسٹاک موجود ہے۔ یہ بھارت کی کل سپلائی کا تقریباً 15فیصد بنتا ہے۔ مزید 36 ملین مربع فٹ دفتری جگہ بھی زیر تکمیل ہے۔
مغربی حیدرآباد آئندہ توسیع کا مرکز رہے گا | Hyderabad GCC Growth
تاہم 2026 کی پہلی ششماہی میں Grade-A دفاتر کی خالی شرح 23.5فیصد رہی۔ رپورٹ کے مطابق 2029 تک GCCs کی طلب وسیع بنیادوں پر برقرار رہے گی۔ IT اور ITeS، BFSI، انجینئرنگ اور لائف سائنسز اہم شعبے رہیں گے۔
پروفیشنل سروسز اور فلیکس آفس آپریٹرز بھی طلب پیدا کریں گے۔ اس کے علاوہ اگلے 2 سے 3 سال میں 2-3 ملین مربع فٹ فلیکس طلب متوقع ہے۔ مینیجڈ ورک اسپیس بھی اس اضافی طلب میں اہم حصہ ڈالے گا۔
رپورٹ کے مطابق مغربی حیدرآباد آئندہ توسیع کا مرکز رہے گا۔ HITEC City، Financial District، Gachibowli اور Kokapet میں ترقی جاری ہے۔ چنانچہ بہتر انفراسٹرکچر بڑے عالمی اداروں کو مزید متوجہ کرسکتا ہے۔
مزید برآں، عالمی کمپنیاں Grade-A دفاتر کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ESG معیار پر پورا اترنے والی عمارتوں کی طلب بھی بڑھ رہی ہے۔ جدید سہولتوں سے آراستہ دفاتر بھی زیادہ اہمیت حاصل کر رہے ہیں۔
یوں حیدرآباد کا GCC شعبہ روزگار اور رئیل اسٹیٹ دونوں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اگلے چند برسوں میں یہ رجحان مزید مضبوط ہونے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں شہر عالمی کارپوریٹ سرگرمیوں کا اہم مرکز بن سکتا ہے۔
