بھارتی زبانوں کے مساوی احترام پر زور | Indian Languages
حیدرآباد:۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اور رکن قانون ساز کونسل مہیش کمار گوڑ نے بھارتی زبانوں کے مساوی احترام پر زور دیا۔ ہفتہ کو انہوں نے حیدرآباد پریس کلب میں ہندی دیوس پروگرام سے خطاب کیا۔ انہوں نے لسانی تنوع کو ملک کی بڑی طاقت قرار دیا۔
گوڑ نے کہا کہ بھارت زبانوں، ثقافتوں اور روایات کا منفرد سنگم ہے۔ مزید برآں، انہوں نے ہر زبان کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت اجاگر کی۔ لہٰذا، انہوں نے ملک میں تمام زبانوں کو مساوی اہمیت دینے کی اپیل کی۔
ہندی کے ساتھ علاقائی زبانوں کا فروغ | Indian Languages
گوڑ نے کہا کہ 14 ستمبر کو ہندی دیوس منانے کی روایت پرانی ہے۔ تاہم، انہوں نے ہندی کی ترقی کے ساتھ علاقائی زبانوں کے تحفظ پر زور دیا۔ ان کے مطابق، کسی بھی زبان کی ترقی دوسری زبانوں کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے مختلف علاقوں کی زبانوں کے فروغ کی اپیل کی۔ انہوں نے تلنگانہ میں اردو اور تلگو کو مساوی اہمیت دینے کی بات کہی۔ گوڑ نے کہا، “تلنگانہ میں تلگو کے ساتھ اردو کو بھی مساوی اہمیت دی جا رہی ہے۔”
مزید برآں، گوڑ نے لسانی محکمہ مزید مضبوط بنانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے تلنگانہ کے لسانی ورثے کا تحفظ ہوگا۔ یوں، حکومت مختلف زبانوں کے فروغ کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔
تلنگانہ کی لسانی اور ثقافتی یکجہتی | Indian Languages
گوڑ نے تلنگانہ اور ملک کے دیگر حصوں کے عوامی روابط کا بھی ذکر کیا۔ خاص طور پر، انہوں نے گجرات اور راجستھان کے لوگوں سے تعلقات اجاگر کیے۔ یہ سماجی، تجارتی اور ثقافتی روابط کئی صدیوں سے قائم ہیں۔
اسی دوران، گوڑ نے کہا کہ مختلف زبانیں لوگوں میں تقسیم پیدا نہیں کرتیں۔ بلکہ، لسانی اور ثقافتی تنوع بھارت کی اتحاد میں تنوع کی عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا، انہوں نے زبانوں کی الگ شناخت برقرار رکھنے پر زور دیا۔
پروگرام میں ریاستی حکومت کے مشیر ہنومنتھا راؤ بھی شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ، سیکریسی کے سکریٹری سچن ساونت بھی موجود تھے۔ کسان کمیشن کے چیئرمین ایم کوڈانڈا ریڈی نے بھی شرکت کی۔
بالآخر، گوڑ نے بھارتی زبانوں کے احترام کو قومی یکجہتی سے جوڑا۔ انہوں نے ہندی کی ترقی کے ساتھ علاقائی زبانوں کے تحفظ کی حمایت کی۔
