سابق تحصیلدار کو رشوت کیس میں 2 سال قید | Tahsildar Bribery Case
حیدرآباد:۔ کریم نگر کی خصوصی اے سی بی عدالت نے سابق تحصیلدار کو سزا سنائی۔ عدالت نے الوگنوری روشیا کو 2 سال کی سخت قید دی۔
روشیا نے منچیریال ضلع کے کاسی پیٹ منڈل میں تحصیلدار کی خدمات انجام دی تھیں۔ یہ مقدمہ 2013 میں لی گئی ₹10,000 رشوت سے متعلق تھا۔
خصوصی جج ناما سنتوش کمار نے 10 ستمبر کو فیصلہ سنایا۔ انہوں نے ایس پی ای اور اے سی بی مقدمات کی سماعت کی۔
عدالت نے انسداد بدعنوانی قانون 1988 کے تحت روشیا کو مجرم قرار دیا۔ عدالت نے دفعہ 7 کے تحت بھی اسے قصوروار ٹھہرایا۔
زمین کی میوٹیشن کے لیے رشوت کا الزام | Tahsildar Bribery Case
عدالت نے دفعہ 13(2) اور 13(1)(d) کے تحت بھی سزا سنائی۔ مزید برآں، عدالت نے دونوں جرائم پر ₹5,000 جرمانہ عائد کیا۔
جرمانہ ادا نہ کرنے پر ہر جرم کے لیے 3 ماہ قید ہوگی۔ یوں روشیا کو جرمانوں کے ساتھ اضافی قید کا بھی سامنا کرنا ہوگا۔
اے سی بی کے مطابق، روشیا نے 9 جنوری 2013 کو رشوت مانگی تھی۔ بعد ازاں، اس نے شکایت کنندہ سے ₹10,000 وصول کیے۔
اے سی بی کیس کے مطابق، رقم سرکاری کام میں رعایت کے بدلے لی گئی۔ شکایت کنندہ اپنی زرعی زمین کی میوٹیشن چاہتا تھا۔
پٹہ دار پاس بک کے اجرا سے متعلق معاملہ | Tahsildar Bribery Case
شکایت کنندہ نے ریونیو ریکارڈ میں زمین کی میوٹیشن بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ، اس نے پٹہ دار پاس بک جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
اینٹی کرپشن بیورو نے بعد میں سابق تحصیلدار کے خلاف مقدمہ چلایا۔ چنانچہ مقدمہ خصوصی اے سی بی عدالت تک پہنچا۔
عدالت نے سماعت کے بعد روشیا کو دونوں جرائم میں قصوروار پایا۔ اس کے بعد عدالت نے 2 سال کی سخت قید سنائی۔
عدالت نے دونوں دفعات کے تحت الگ الگ ₹5,000 جرمانہ بھی عائد کیا۔ یوں رشوت کیس میں سابق تحصیلدار کو مجموعی قانونی سزا کا سامنا کرنا پڑا۔
