تلنگانہ کے آئی ٹی مراکز کی بحالی اور توسیع | Telangana IT Hubs
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے آئی ٹی مراکز صنعت سے شراکت داری نہ ہونے سے غیر فعال ہوگئے تھے۔ آئی ٹی وزیر ددڈیلا سریدھر بابو نے اسمبلی میں یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ کئی مراکز تعمیر کے بعد استعمال میں نہیں آسکے۔
وزیر نے بتایا کہ حکام نے ریاست بھر میں آئی ٹی مراکز کا معائنہ کیا۔ اس دوران کئی عمارتوں میں اینکر پارٹنرز موجود نہیں تھے۔ مزید برآں، صنعت سے شراکت داری نہ ہونے سے یہ مراکز بند ہوگئے تھے۔
غیر فعال آئی ٹی مراکز کی بحالی پر توجہ | Telangana IT Hubs
سریدھر بابو نے نظام آباد کے آئی ٹی ٹاور سے متعلق سوال کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بند مراکز دوبارہ فعال کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ تاہم، حکومت نئے منصوبوں میں صنعت کی شراکت داری کو اہمیت دے رہی ہے۔
حکومت ٹائر-2 شہروں میں آئی ٹی سرگرمیاں بڑھانے کا منصوبہ بھی بنا رہی ہے۔ نلگنڈہ، عادل آباد، محبوب نگر اور کریم نگر اس منصوبے میں شامل ہیں۔ یوں حکومت حیدرآباد پر موجود دباؤ کم کرنا چاہتی ہے۔
وزیر نے کہا کہ عادل آباد میں آئی ٹی ہب یا ٹاور جلد شروع ہوگا۔ حکومت نئے آئی ٹی ہب بھی قائم کرے گی۔ اس کے لیے اینکر پارٹنرز یا صنعتی شراکت داروں کو آگے آنا ہوگا۔
ریاستی حکومت تلنگانہ کے نوجوانوں کے لیے مزید روزگار پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اسی مقصد سے حکومت نے ایک مرکوز منصوبہ تیار کیا ہے۔ مزید برآں، آئی ٹی شعبے میں سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔
جی سی سی، ڈیٹا سینٹرز اور نئے روزگار پر زور | Telangana IT Hubs
سریدھر بابو کے مطابق، گزشتہ 2 برسوں میں حیدرآباد میں 75 سے زیادہ گلوبل کیپبلیٹی سینٹرز کھلے۔ انہوں نے اسے ملک میں ایک ریکارڈ قرار دیا۔ اسی دوران، حکومت کے 2 سالہ دور میں 1 لاکھ نوجوانوں کو نئی ملازمتیں ملیں۔
وزیر نے کہا کہ حکومت جلد نئی جی سی سی پالیسی متعارف کرائے گی۔ اس پالیسی پر کام پہلے ہی جاری ہے۔ لہٰذا، حکومت آئی ٹی شعبے کی توسیع اور روزگار کے لیے نئی حکمت عملی اپنائے گی۔
سریدھر بابو نے ڈیٹا سینٹرز کو آئی ٹی ماحول کا اہم حصہ قرار دیا۔ حکومت نے اسی لیے اس شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ اس کے علاوہ، حکومت مستقبل کے ممکنہ مسائل سے نمٹنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
حکومت ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی متبادل فراہمی کا انتظام کرے گی۔ اس اقدام سے مقامی ضروریات متاثر نہیں ہوں گی۔ مزید برآں، حکومت ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرے گی۔
سریدھر بابو نے ریجنل رنگ روڈ پر مرکز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکز نے اس منصوبے کو کوئی تعاون نہیں دیا۔ انہوں نے بی جے پی ارکان سے معاملہ اٹھانے اور حمایت حاصل کرنے کی اپیل کی۔
وزیر نے کہا کہ حکومت حیدرآباد سے باہر روزگار اور سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے۔ اسی دوران، حکومت موجودہ آئی ٹی مراکز کو دوبارہ فعال کرے گی۔ یوں چھوٹے شہروں میں ٹیکنالوجی کا بنیادی ڈھانچہ مزید مضبوط ہوگا۔
حکومت نئی صنعتی شراکت داریاں حاصل کرنے کی کوشش بھی جاری رکھے گی۔ اس کے ساتھ ٹائر-2 اور ٹائر-3 شہروں میں ٹیکنالوجی کا دائرہ بڑھے گا۔ چنانچہ، تلنگانہ میں آئی ٹی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
