بی آر ایس وی اسمبلی احتجاج اور طلبہ کی گرفتاریاں | BRSV Assembly Protest
حیدرآباد:۔ بی آر ایس وی کا اسمبلی احتجاج جمعہ کو پولیس کی کارروائی کے بعد ختم ہوگیا۔ پولیس نے بھارت راشٹرا ودیارتھی سمیتی کے رہنماؤں اور طلبہ کو روکا۔ مظاہرین تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے۔
طلبہ کے مطالبات پر اسمبلی کے قریب احتجاج | BRSV Assembly Protest
احتجاجی طلبہ اسمبلی کے قریب جمع ہوئے تھے۔ انہوں نے کئی اہم طلبہ مطالبات پیش کیے۔ مزید برآں، انہوں نے زیر التوا اسکالرشپس فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
طلبہ نے پولی ٹیکنک کالجوں سے متعلق جی او نمبر 97 واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ تاہم، پولیس نے مظاہرین کو اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اسی دوران، پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
پولیس نے مظاہرین کو اسمبلی کی عمارت کی طرف آگے بڑھنے نہیں دیا۔ یوں احتجاجی مارچ اسمبلی تک نہیں پہنچ سکا۔ اس کارروائی کے دوران پولیس نے علاقے میں سکیورٹی بھی بڑھا دی۔
بی آر ایس وی رہنما پرشانت گوڑ نے حکومت سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زیر التوا اسکالرشپس کے لیے 12,000 کروڑ روپے جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے جی او نمبر 97 واپس لینے پر زور دیا۔
مطالبات نہ ماننے پر مزید احتجاج کی وارننگ | BRSV Assembly Protest
پرشانت گوڑ نے الزام لگایا کہ حکومت طلبہ کے مسائل نظر انداز کر رہی ہے۔ لہٰذا، انہوں نے مطالبات حل نہ ہونے پر تحریک تیز کرنے کی وارننگ دی۔ انہوں نے حکومت سے فوری طور پر طلبہ کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
گوڑ نے جی او نمبر 97 واپس نہ لینے پر سخت احتجاج کی دھمکی دی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس وی چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرے گی۔ تاہم، انہوں نے یہ اقدام حکومت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کی صورت میں کرنے کی بات کہی۔
مزید برآں، گوڑ نے احتجاج کی مزید سخت شکل اختیار کرنے کا انتباہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ کے مطالبات پر جواب نہیں دے رہی۔ چنانچہ، بی آر ایس وی آئندہ دنوں میں اپنا احتجاج مزید تیز کرے گی۔
اسی دوران، اسمبلی کے اطراف پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کیے۔ اہلکاروں نے مظاہرین کو اسمبلی کے قریب آگے بڑھنے سے روکا۔ بعد ازاں، پولیس نے مارچ کی کوشش کرنے والے کئی مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
بی آر ایس وی رہنما نے دوبارہ احتجاج تیز کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مطالبات حل کرے تو صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر، تنظیم طلبہ کے مطالبات کے لیے مزید احتجاج کرے گی۔
