ہائی کورٹ نے JNTU گریس مارکس پر وضاحت طلب کی | JNTU Grace Marks
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعرات کو جے این ٹی یو سے گریس مارکس پالیسی پر وضاحت طلب کی۔ عدالت نے مختلف طلبہ بیچز کے لیے الگ رعایت دینے کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔
جسٹس جوواڑی سری دیوی نے یونیورسٹی کی پالیسی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں آر 18، آر 21 اور آر 22 طلبہ کے لیے مختلف فیصد پر سوال اٹھایا گیا۔
ذرائع کے مطابق جے این ٹی یو نے آر 18 اور آر 21 طلبہ کو 0.5 فیصد گریس مارکس دیے۔ تاہم یونیورسٹی نے آر 22 طلبہ کے لیے یہ رعایت 0.15 فیصد تک محدود رکھی۔
یونیورسٹی نے کووڈ کے دوران آن لائن کلاسز کو مدنظر رکھا تھا۔ اسی دوران نیٹ ورک سے متعلق مشکلات بھی فیصلے میں شامل کی گئیں۔
تاہم درخواست گزار نے آر 22 طلبہ کے لیے کم رعایت کو چیلنج کیا۔ درخواست گزار نے تمام متعلقہ طلبہ کے ساتھ مساوی سلوک کا مطالبہ کیا۔
مختلف بیچز کے لیے گریس مارکس کا معاملہ | JNTU Grace Marks
درخواست میں آر 22 طلبہ کو 0.5 فیصد گریس مارکس دینے کی درخواست کی گئی۔ یوں ان طلبہ کو آر 18 اور آر 21 کے برابر رعایت ملنے کی بات کی گئی۔
درخواست گزار نے یونیورسٹی کے مختلف فیصد مقرر کرنے پر اعتراض کیا۔ اس کے علاوہ درخواست میں پالیسی کی بنیاد واضح کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اسی دوران ہائی کورٹ نے جے این ٹی یو سے اس فیصلے کی وضاحت مانگی۔ عدالت نے مختلف بیچز کے لیے رعایت میں فرق پر سوال اٹھایا۔
ہائی کورٹ میں جے این ٹی یو سے وضاحت طلب | JNTU Grace Marks
سماعت کے دوران عدالت نے یونیورسٹی سے اپنے فیصلے کی وجہ بتانے کو کہا۔ لہٰذا جے این ٹی یو کو مختلف گریس مارکس کی وضاحت پیش کرنا ہوگی۔
ذرائع نے گریس مارکس کے فیصلے کو کووڈ دور کی مشکلات سے جوڑا ہے۔ آن لائن کلاسز اور نیٹ ورک مسائل بھی اس پس منظر میں شامل رہے۔
دوسری جانب درخواست میں آر 22 طلبہ کے لیے مساوی رعایت کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ مقدمے کا مرکزی نکتہ مختلف طلبہ بیچز کے ساتھ برتاؤ بنا رہا۔
ہائی کورٹ کے حکم سے جے این ٹی یو کی پالیسی عدالتی جانچ میں آگئی ہے۔ مزید برآں عدالت نے مختلف رعایت کی بنیاد واضح کرنے پر توجہ دی ہے۔
