تلنگانہ کی کم از کم اجرت پالیسی کی عالمی پذیرائی | Minimum Wage Policy
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر محنت، توانائی اور کان کنی جی ویویک وینکٹ سوامی نے اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ محنت نے ریاست کی کم از کم اجرت پالیسی کو سراہا ہے۔ ان کے مطابق ادارے نے دیگر ریاستوں کو بھی یہی ماڈل اپنانے کی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کم از کم اجرت کے نفاذ میں مثالی ریاست بن چکا ہے۔
وزیر نے یہ بات تلنگانہ اسمبلی میں کہی۔ وہ سوالات کے وقفے کے دوران ارکان کو جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مزدوروں کو منصفانہ اجرت دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے بہتر مالی تحفظ فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
حکومت کا کم از کم اجرت پر مؤقف | Minimum Wage Policy
جی ویویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ حکومت مزدوروں کی فلاح پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں 1.10 کروڑ سے زیادہ کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ کارکن مختلف صنعتوں اور اداروں سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مزدوروں کے مفاد کو اولین ترجیح دی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نظرثانی شدہ کم از کم اجرت 1 جون 2026 سے نافذ ہوئی۔ یہ گورنمنٹ آرڈر نمبر 6 کے ذریعے نافذ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اجرتوں کے تعین کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔
وزیر نے بتایا کہ نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا اس کمیٹی کے رکن تھے۔ وزیر صنعت ڈی سریدھر بابو بھی کمیٹی میں شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی۔ اس کے بعد اجرتوں سے متعلق فیصلہ کیا گیا۔
نفاذ کا جائزہ اور آئندہ اقدامات | Minimum Wage Policy
جی ویویک وینکٹ سوامی نے الزام لگایا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے کم از کم اجرت پر توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال 10 سالہ دور حکومت میں برقرار رہی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی اجرتوں پر نظرثانی کی۔
وزیر نے این ٹی پی سی اور سنگارینی سے متعلق خدشات کا بھی جواب دیا۔ یہ خدشات نئی اجرتوں کے نفاذ سے متعلق تھے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ وزیر نے کہا کہ نظرثانی شدہ اجرتوں پر 100 فیصد عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سنگارینی کے کنٹریکٹ کارکنوں کی اجرت بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے۔ آؤٹ سورسنگ ملازمین کے مسائل پر بھی غور جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے خصوصی کارپوریشن قائم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جلد اجلاس ہوگا۔
وزیر نے سرپور پیپر مل کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ حکومت عدالتی فیصلے کے بعد مزید کارروائی کرے گی۔
