فلپائن سے تلنگانہ کے چاول کی برآمدات پر بات چیت | Telangana Rice Exports
حیدرآباد:۔ آبپاشی اور شہری رسد کے وزیر این اتم کمار ریڈی نے بدھ کو فلپائن کے وزیر زراعت فرانسسکو پی ٹیو لاریل جونیئر سے نئی دہلی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران انہوں نے دسمبر 2026 میں حیدرآباد میں ہونے والے تلنگانہ رائزنگ سمٹ میں شرکت کی دعوت دی۔
فلپائن کے وزیر زراعت نے دعوت قبول کرتے ہوئے خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تلنگانہ سے فلپائن کو چاول کی برآمدات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے برآمدات بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
چاول کی برآمدات بڑھانے پر اتفاق رائے | Telangana Rice Exports
این اتم کمار ریڈی نے وفد کو تلنگانہ کی زرعی پیداوار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ معیار اور برآمدی صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیر نے ریاست میں سرمایہ کاری کے مواقع بیان کیے۔ انہوں نے تلنگانہ رائزنگ سمٹ کے مقاصد بھی واضح کیے۔
انہوں نے کہا کہ فلپائن نے تلنگانہ سے بڑے پیمانے پر چاول خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ دونوں فریقین نے زرعی تجارت بڑھانے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے طویل مدتی تجارتی شراکت داری پر بھی گفتگو کی۔
وزیر کے مطابق فلپائن نے تلنگانہ میں تیار ہونے والی معیاری گوشت کی مصنوعات میں دلچسپی ظاہر کی۔ وفد نے اعلیٰ معیار کے بیج درآمد کرنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔
عالمی منڈیوں تک رسائی حکومت کا ہدف | Telangana Rice Exports
این اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ کی زرعی پیداوار عالمی معیار پر پوری اترتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسانوں کی پیداوار کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چاول کی برآمدات بڑھنے سے کسانوں کو بہتر قیمت ملے گی۔ اس سے رائس ملرز کو بھی فائدہ ہوگا۔ بیج تیار کرنے والی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ گوشت کی صنعت اور فوڈ پروسیسنگ شعبہ بھی مستفید ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت زراعت کو عالمی منڈی سے جوڑنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق زراعت کو منافع بخش معاشی سرگرمی بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
تلنگانہ رائزنگ سمٹ سے نئی شراکت داری کی امید | Telangana Rice Exports
این اتم کمار ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ رائزنگ سمٹ ریاست کی ترقیاتی حکمت عملی کو عالمی سطح پر پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ زرعی تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ صنعتی تعاون میں بھی اضافہ ہوگا۔
بعد ازاں انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سمٹ تلنگانہ اور فلپائن کے درمیان نئی شراکت داری قائم کرے گی۔ انہوں نے زراعت، فوڈ پروسیسنگ، بیجوں کی پیداوار، برآمدات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کو اہم شعبے قرار دیا۔
