بی آر ایس خاتون ارکان کے معاملے پر اویسی کا مطالبہ | Women MLAs
حیدرآباد:۔ اے آئی ایم آئی ایم کے فلور لیڈر و چندرائن گٹہ سے رکن اسمبلی اکبرالدین اویسی نے تلنگانہ اسمبلی میں بی آر ایس کی خاتون ارکان کے ساتھ مبینہ پولیس بدسلوکی کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا برتاؤ کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔
اکبرالدین اویسی نے اسمبلی میں اس معاملے پر اظہار خیال کیا۔ مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے خاتون ارکان کے بال کھینچے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی ساڑیوں پر بھی پیر رکھا گیا۔
خواتین کے احترام پر زور | Women MLAs
اکبرالدین اویسی نے کہا کہ خواتین کے ساتھ اس طرح کا مبینہ سلوک انتہائی افسوسناک ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ایسے رویے کو کسی بھی حالت میں برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے تلنگانہ تلی کے مجسمے کی تنصیب کا بھی ذکر کیا۔ تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف خواتین کے احترام کی بات کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ایسے مبینہ واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس تضاد پر تشویش کا اظہار کیا۔
پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ | Women MLAs
اکبرالدین اویسی نے مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ذمہ دار افراد کا احتساب ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی وجہ سے خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کو درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یوں انہوں نے اسمبلی کارروائی کے دوران متعلقہ حکام سے فوری اور سخت کارروائی کی اپیل کی۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
