گاندھی بھون میں عوامی شکایات کی سماعت | Public Grievance Redressal
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے۔ مزید برآں، مستحق افراد کو بغیر غیر ضروری رکاوٹوں کے فلاحی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
بدھ کے روز گاندھی بھون میں فیس ٹو فیس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 78 درخواستیں موصول ہوئیں۔ ان درخواستوں میں راشن کارڈ، ڈبل بیڈ روم مکانات، اندرااما ہاؤسنگ، زمین، پاس بک اور سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلوں سے متعلق شکایات شامل تھیں۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ اس پروگرام سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فلاحی اسکیمیں نچلی سطح تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اس بار پروگرام پہلے سے زیادہ منظم انداز میں منعقد کیا گیا۔
کئی درخواست گزار مکمل دستاویزات کے بغیر پہنچے تھے۔ لہٰذا گاندھی بھون میں خصوصی عملہ ان کی رہنمائی کے لیے تعینات کیا گیا۔
عملے نے درخواستیں تیار کرانے میں مدد دی۔ اسی دوران متعلقہ خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔
جہاں ضرورت پڑی وہاں متعلقہ محکموں اور ضلع کلکٹروں سے رابطہ کیا گیا۔ چنانچہ حقیقی شکایات کو سرکاری قواعد کے مطابق آگے بڑھایا گیا۔
راشن کارڈ اور فلاحی اسکیموں کی شکایات | Public Grievance Redressal
محمد علی شبیر نے کہا کہ بعض مستحق خاندان اب بھی راشن کارڈ سے محروم ہیں۔ تاہم حکومت کئی بار اہل افراد سے درخواستیں دینے کی اپیل کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آگاہی کی کمی بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے علاوہ ایک پرانے کانگریس کارکن کی اہلیہ نے بھی اپنی شکایت پیش کی۔
خاتون نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس نہ راشن کارڈ ہے اور نہ ہی رہائش ہے۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر کئی برس سے کانگریس سے وابستہ ہیں۔
کئی درخواست گزار پہلے بھی پرجاوانی اور دیگر دفاتر جا چکے تھے۔ یوں انہیں درخواست مسترد ہونے کی وجہ بھی معلوم نہیں تھی۔
منتظمین نے ایسے افراد کی مکمل رہنمائی کی۔ لہٰذا مطلوبہ دستاویزات اور ضروری اصلاحات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ 85 سے 90 سال عمر کے بزرگ بھی شکایات لے کر آئے۔ اسی دوران عملے نے انہیں آسان زبان میں مکمل طریقہ کار سمجھایا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر درخواست منظور نہیں ہو سکتی۔ تاہم قواعد پر پورا اترنے والے تمام حقیقی معاملات کی سفارش اور پیروی کی جائے گی۔
رہائش اور تعلیم پر خصوصی توجہ | Public Grievance Redressal
رہائشی منصوبوں سے متعلق شکایات بھی بڑی تعداد میں موصول ہوئیں۔ بعض افراد نے سابق بی آر ایس حکومت کے ڈبل بیڈ روم مکانات کا مطالبہ کیا۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ ان میں سے بعض مکانات قرعہ اندازی کے ذریعے دیے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب کئی درخواستیں اندرااما ہاؤسنگ اسکیم سے متعلق بھی تھیں۔
کچھ مستحقین کو پہلی قسط مل چکی تھی۔ بعد ازاں موٹر سائیکل، کار یا ٹریکٹر کی ملکیت ظاہر ہونے پر مزید ادائیگی روک دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ہر معاملے کا انفرادی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکام کو مناسب سفارشات بھی بھیجی جا رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی پی سی سی صدر مہیش کمار گوڑ نے اس پروگرام کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ یوں یہ اقدام حکومت، کانگریس اور عوام کے درمیان ایک مؤثر رابطہ بن گیا۔
محمد علی شبیر نے سینئر جنرل سیکریٹری جگدیش اور ان کی ٹیم کی خدمات کو سراہا۔ مزید برآں، انہوں نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور مہیش کمار گوڑ کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی افراد بعد میں دوبارہ گاندھی بھون آئے۔ ان افراد نے بتایا کہ ان کے راشن کارڈ جاری ہو چکے ہیں اور اب وہ رہائش سے متعلق مدد چاہتے ہیں۔
بہتر تعلیم، ناشتہ، یونیفارم اور سہولتوں نے والدین کا اعتماد بڑھایا ہ | Public Grievance Redressal
محمد علی شبیر نے کہا کہ تعلیم سے متعلق درخواستوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں، کالجوں اور بی سی، مائنارٹی، ایس سی اور ایس ٹی گروکل اداروں میں داخل کرانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہتر تعلیم، ناشتہ، یونیفارم اور سہولتوں نے والدین کا اعتماد بڑھایا ہے۔ اسی دوران سرکاری اداروں میں داخلوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق بی آر ایس دور میں تقریباً 4,000 اسکول بند ہوئے تھے۔ تاہم اب کئی ادارے دوبارہ فعال ہو رہے ہیں۔
انہوں نے ایک انٹرمیڈیٹ کالج کی مثال دی۔ اس کالج میں داخلے 600 سے بڑھ کر 1,200 ہو گئے ہیں۔
محمد علی شبیر نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اضافی کمروں اور بنیادی ڈھانچے کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اساتذہ کی تقرری اور دیگر سہولتوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیس ٹو فیس پروگرام صرف درخواستیں وصول کرنے کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا ہر مستحق فرد کو رہنمائی، جواب اور مناسب پیروی فراہم کی جائے گی۔
