مدراس رجمنٹ سے 12 ہتھیار چوری | Army Weapons Theft
حیدرآباد:۔ سکندرآباد کی مدراس رجمنٹ سے 12 جدید ہتھیار چوری ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے فوجی سکیورٹی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
فوجی حکام نے اس معاملے کی شکایت بولارم پولیس میں درج کرائی۔ مزید برآں، شکایت میں بتایا گیا کہ نامعلوم افراد نے اسلحہ رکھنے والے کمرے کا تالا توڑ کر ہتھیار چوری کیے۔
ہتھیاروں میں 4 اے کے-47 رائفلیں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ 6 پستول بھی غائب پائے گئے۔ یوں ایک انساس رائفل اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی چوری ہونے کی تصدیق ہوئی۔
چوری کے بعد سکیورٹی پر سوالات | Army Weapons Theft
یہ واقعہ ایک ایسے فوجی مرکز میں پیش آیا جہاں سکیورٹی انتہائی سخت رہتی ہے۔ لہٰذا، یہ سوال پیدا ہوا کہ ملزمان سخت نگرانی کے باوجود اندر کیسے داخل ہوئے۔
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اسی دوران، تفتیشی ٹیم نے واقعے کی مکمل جانچ شروع کر دی ہے۔
افسران اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ملزمان اسلحہ خانے تک کیسے پہنچے۔ مزید برآں، تالا توڑنے کے بعد ہتھیار کس طرح باہر منتقل کیے گئے، اس کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
تفتیش میں تمام پہلو زیر غور | Army Weapons Theft
بولارم پولیس واقعے کے ہر ممکن پہلو کی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، چوری شدہ ہتھیاروں کی ممکنہ نقل و حرکت کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔
حکام سکیورٹی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ یوں اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سکیورٹی میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔
واقعے کی حساس نوعیت کے باعث حکام نے تحقیقات کو خفیہ رکھا ہے۔ دوسری جانب، فوجی حکام کی شکایت کے بعد بولارم پولیس نے اپنی تفتیش جاری رکھی ہوئی ہے۔
اب تک تحقیقات سے متعلق مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم، پولیس مختلف زاویوں سے شواہد کا جائزہ لے رہی ہے۔ چنانچہ، مزید معلومات سرکاری تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔
