آر ٹی سی اراضی کی منتقلی پر یونینوں کا اعتراض | RTC Land
حیدرآباد:۔ گریٹر حیدرآباد میں آر ٹی سی کی اراضی کے حصول نے ملازمین اور ٹریڈ یونینوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اراضی مستقبل میں ادارے کی ضروریات کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، جمیستان پور میں تقریباً 6 ایکڑ اور کاچی گوڑہ کے قریب 13 ایکڑ اراضی مختلف سرکاری منصوبوں کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، ملازمین نے ان فیصلوں پر وضاحت طلب کی ہے۔
تلنگانہ حکومت نے مشیرآباد اسمبلی حلقے کے جمیستان پور میں 6 ایکڑ اراضی اندراما ہاؤسز پروگرام کے لیے حاصل کی ہے۔ دوسری جانب، مرکز کاچی گوڑہ آر ٹی سی ڈپو کے قریب 13 ایکڑ اراضی ریلوے منصوبوں کے لیے حاصل کر رہا ہے۔
قیمتی اراضی کے مستقبل پر سوالات | RTC Land
آر ٹی سی ملازمین نے اراضی کی منتقلی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ زمینیں مستقبل میں ادارے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ضروری ہو سکتی ہیں۔
مزید برآں، میڈیا نمائندوں نے سینئر آر ٹی سی حکام سے وضاحت مانگی۔ تاہم، حکام نے اس معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
ملازمین نے مطالبہ کیا کہ آر ٹی سی بورڈ عوام کے سامنے مکمل تفصیلات جاری کرے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے منتقل کی جانے والی اراضی کے رقبے اور مقصد سے بھی آگاہ کرنے کا مطالبہ کیا۔
اندراما ہاؤسنگ منصوبہ اور حکومتی موقف | RTC Land
ہاؤسنگ وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی کے بیانات نے بھی اس معاملے کو نمایاں کیا۔ انہوں نے تمگاتورتی کے ایک پروگرام میں کہا کہ حیدرآباد میں ایک ایکڑ زمین کی قیمت 150 کروڑ سے 200 کروڑ روپے تک ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن غریب خاندانوں کے لیے آر اینڈ بی، آر ٹی سی اور ہاؤسنگ بورڈ کی زمین استعمال کرنے کی مخالفت کر رہی ہے۔ یوں ان کے بیان سے واضح ہوا کہ آر ٹی سی اراضی اندراما ہاؤسنگ پروگرام کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔
حکومت نے جمیستان پور آر ٹی سی کوارٹرز کی جگہ کو اندراما ٹاورز کے چار نئے مقامات میں شامل کیا ہے۔ دیگر مقامات میں ایل بی نگر کا آمنگل، گوشہ محل کا نامپلی اور چندرائن گٹہ کا بنڈلہ گوڑہ شامل ہیں۔
ہر مقام پر 480 مکانات تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ لہٰذا، چاروں مقامات پر مجموعی طور پر 1,920 مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔
یونینوں کا اعتراض برقرار | RTC Land
تلنگانہ ہاؤسنگ بورڈ نے بھی مشیرآباد اسمبلی حلقے کو اس منصوبے میں شامل کیا ہے۔ مزید برآں، اس فیصلے کے بعد آر ٹی سی یونینوں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
یونین رہنماؤں نے سوال اٹھایا کہ متحدہ آندھرا پردیش کے اثاثوں کی تقسیم مکمل ہونے سے پہلے اراضی کیسے منتقل کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ملکیت اور منتقلی کے عمل پر وضاحت طلب کی۔
اسی دوران، کاچی گوڑہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے 13 ایکڑ اراضی ریلوے کی جدید کاری کے لیے مختص کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ملازمین نے اس فیصلے پر بھی اعتراض کیا ہے۔
یونین رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ غریبوں کے لیے مکانات کی مخالفت نہیں کر رہے۔ تاہم، وہ آر ٹی سی کی مستقبل کی ضروریات کے لیے محفوظ اراضی کی منتقلی کے خلاف ہیں۔
ملازمین نے مکمل تفصیلات جاری کرنے کا مطالبہ کیا | RTC Land
ایس ڈبلیو ایف اور ٹی ایم یو کے رہنما تھامس ریڈی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر دیگر یونینوں کو بھی متحد کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد آر ٹی سی کی اراضی کا تحفظ ہے۔
ملازمین نے آر ٹی سی بورڈ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تمام اراضی کی مکمل تفصیلات جاری کی جائیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے اندراما ٹاورز اور ریلوے منصوبوں کے لیے دی جانے والی زمین کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے اراضی کی مجموعی مالیت سے متعلق معلومات بھی طلب کیں۔ چنانچہ، ملازمین کا کہنا ہے کہ آر ٹی سی حکام کو اس معاملے پر باضابطہ موقف پیش کرنا چاہیے۔
یونینوں کا کہنا ہے کہ آر ٹی سی کی قیمتی اراضی کو ادارے کی طویل مدتی ضروریات کے لیے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔ مزید برآں، انہوں نے تمام فیصلوں میں شفافیت اور جوابدہی پر زور دیا۔
