زیر التوا طلبہ وظائف فوری جاری کرنے کا مطالبہ | Student Scholarships
حیدرآباد:۔ قبائلی طلبہ یونین کے بانی صدر گنیش نائک نے ایس ٹی، ایس سی اور بی سی طلبہ کے زیر التوا وظائف فوری جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ مطالبہ اتوار کو باغ لنگم پلی کے سندرایا وگیان کیندر میں منعقدہ ریاستی سطح کے اجلاس میں کیا۔
اجلاس میں قبائلی طلبہ یونین کے ارکان نے مختلف طلبہ مسائل پر تفصیلی گفتگو کی۔ مزید برآں، تنظیم نے قبائلی طلبہ اور ان کی برادری سے متعلق کئی اہم مطالبات بھی حکومت کے سامنے رکھے۔
وظائف کی ادائیگی پر زور | Student Scholarships
گنیش نائک نے کہا کہ ایس ٹی، ایس سی اور بی سی طلبہ کے تمام زیر التوا وظائف فوری ادا کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیوالال مہاراج جینتی کو ریاستی تعطیل قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے قبائلی برادری کے جذبات کا احترام ہوگا۔
یوں تنظیم نے اپنے دیگر مطالبات بھی پیش کیے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں کے لیے Rs. 100 کروڑ مختص کیے جائیں۔
قبائلی یونیورسٹی کا مطالبہ | Student Scholarships
اجلاس میں ایک علیحدہ قبائلی یونیورسٹی کے قیام پر بھی زور دیا گیا۔ مزید برآں، شرکا نے تجویز دی کہ مجوزہ ادارے کا نام سیوالال مہاراج یونیورسٹی رکھا جائے۔
لہٰذا، تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی کے قیام کا عمل جلد شروع کیا جائے۔ اس مطالبے کو اجلاس میں بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔
نئی قیادت کا انتخاب | Student Scholarships
اسی دوران، تنظیم نے اپنے نئے عہدیداروں کا انتخاب بھی مکمل کیا۔ وینکٹ بنجارا نے قومی صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔
بعد ازاں، بالاجی نائک کو ریاستی صدر منتخب کیا گیا۔ گنیش نائک کو آندھرا پردیش کا صدر منتخب کیا گیا۔
یوں نئی قیادت نے اپنے عہدوں کا چارج سنبھالا۔ اس کے علاوہ، قیادت نے دوبارہ مطالبہ کیا کہ زیر التوا وظائف فوری جاری کیے جائیں۔
تنظیم نے ایک بار پھر سیوالال مہاراج جینتی پر ریاستی تعطیل کا مطالبہ دہرایا۔ مزید برآں، تنظیم نے Rs. 100 کروڑ کی منظوری اور سیوالال مہاراج یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ بھی حکومت کے سامنے رکھا۔
