سیکشن 22-A اراضی پابندیوں پر بڑھتی تشویش | Section 22A
حیدرآباد:۔ نظام آباد کے سابقہ ضلع میں سیکشن 22-A کے تحت اراضی پابندیوں نے ہزاروں جائیداد مالکان میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ہزاروں ایکڑ اراضی کو رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید برآں، متاثرین نے دعویٰ کیا کہ پابندیوں سے قبل مناسب عوامی آگاہی نہیں دی گئی۔
یہ مسئلہ بودھن، نظام آباد، کاماریڈی، یلا ریڈی اور بانسواڑہ ریونیو ڈویژنوں میں سامنے آیا ہے۔ کئی مالکان کو پابندیوں کا علم اس وقت ہوا جب وہ سب رجسٹرار یا تحصیلدار کے دفاتر پہنچے۔ لہٰذا، انہیں اپنی جائیداد فروخت کرنے یا دیگر لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بودھن میں صورتحال زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، شہر اور اطراف کے منڈلوں میں تقریباً 3,500 ایکڑ اراضی سیکشن 22-A کے دائرے میں شامل ہے۔
متعدد رہائشی علاقوں پر اثرات | Section 22A
رپورٹ کے مطابق، کئی رہائشی علاقے بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان میں وینکٹیشورا نگر، شکر نگر، اچن پلی، رکاسی پیٹ اور بیلل روڈ کے اطراف کے علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی رہائشی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
بیلل ریڈی علاقے کی پولیس کالونی کی شمولیت پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس کالونی میں 258 مکانات اور رہائشی پلاٹس موجود ہیں۔
اطلاعات کے مطابق، پولیس ہاؤسنگ کوآپریٹو سوسائٹی نے سال 2000 میں یہ اراضی نظام شوگرس سے خریدی تھی۔ یہ لین دین دستاویز نمبر 4510/2000 کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا۔
مندر اراضی کی تفصیلات پر ابہام | Section 22A
رہائشیوں اور سماجی کارکنوں نے مندر کی اراضی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سیکشن 22A(1)(c) کے تحت شامل جائیدادوں کی تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ مزید برآں، اس مسئلے نے جائیداد مالکان کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔
ان کے مطابق، رجسٹریشن محکمہ کی ویب سائٹ پر کئی ممنوعہ جائیدادوں کی معلومات موجود ہیں۔ تاہم، اینڈومنٹس اور مندر کی اراضی سے متعلق صفحے پر صرف “Uploading Soon” کا پیغام دکھائی دیتا ہے۔
مختلف محکموں کے بیانات سے الجھن برقرار | Section 22A
رپورٹ کے مطابق، ریونیو، رجسٹریشن اور اینڈومنٹس محکموں کے حکام نے مختلف نوعیت کی وضاحتیں پیش کی ہیں۔ یوں، متاثرہ مالکان اب بھی اپنی جائیدادوں کی قانونی حیثیت اور لین دین کے حقوق کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائیداد مالکان اور سماجی کارکن اس معاملے پر زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاہم، دستیاب معلومات میں حکومت کی جانب سے ان جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست سے ہٹانے یا نظرثانی کرنے کے کسی فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
