ٹریفک آٹو ڈیبٹ چالان نظام پر بی آر ایس کی تنقید | Traffic Challan AutoDebit
حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے رہنما اور رکن قانون ساز کونسل داسوجو سراون نے مجوزہ ٹریفک چالان آٹو ڈیبٹ نظام کی مخالفت کی۔ انہوں نے اسے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے اس تجویز کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
داسوجو سراون نے کہا کہ ٹریفک چالان صرف ایک الزام ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہری کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ شہری کو چالان چیلنج کرنے یا اپیل دائر کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قانونی عمل مکمل ہونے سے پہلے زبردستی رقم وصول نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا حکومت کو موجودہ قوانین کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔
قانونی اور آئینی اعتراضات | Traffic Challan AutoDebit
داسوجو سراون نے کہا کہ بینک صارف کی واضح رضامندی یا عدالتی حکم کے بغیر رقم وصول نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں ریزرو بینک آف انڈیا کے ضوابط اور بینکاری قوانین کا حوالہ دیا۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ان اصولوں کی خلاف ورزی مناسب نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ بینکاری یونین لسٹ کا موضوع ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی ریاستی حکومت یکطرفہ طور پر بینک کھاتوں سے خودکار رقم کٹوتی کا نظام نافذ نہیں کر سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایسا نظام بینکوں اور صارفین کے تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ یوں عوام کا بینکاری نظام پر اعتماد بھی کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رازداری اور جائیداد کے حقوق | Traffic Challan AutoDebit
داسوجو سراون نے آئین کے آرٹیکل 21 اور آرٹیکل 300 اے کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ خودکار رقم وصولی شہریوں کی رازداری اور جائیداد کے حقوق کو متاثر کر سکتی ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس معاملے پر سنجیدہ غور کرنے کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو مجوزہ آٹو ڈیبٹ نظام ترک کر دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ٹریفک چالان کی وصولی صرف قائم شدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہونی چاہیے۔
قانونی طریقہ کار اپنانے کا مطالبہ | Traffic Challan AutoDebit
داسوجو سراون نے کہا کہ ہر شہری کو ٹریفک چالان کے خلاف اعتراض یا اپیل کا حق حاصل رہنا چاہیے۔ لہٰذا کسی بھی جبری وصولی سے پہلے اس حق کا احترام ضروری ہے۔
آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے دوران شہریوں کی رازداری اور جائیداد کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ تمام اقدامات آئینی اور قانونی اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔
