ہریش راؤ کاحکومت پر ’مجرمانہ غفلت ‘ کا الزام| Kaleshwaram Project Reports
حیدرآباد:۔ سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ این ڈی ایس اے کے حلف نامے اور سی ڈبلیو پی آر ایس کی رپورٹ نے کالیشورم منصوبے پر کانگریس حکومت کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گوداوری کا پانی فوری اٹھایا جائے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ یہ پانی کسانوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔
ٹی ہریش راؤ نے ایک پریس نوٹ جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رپورٹس کانگریس کی مہم سے متصادم ہیں۔ لہٰذا حکومت کو اب منصوبے کے خلاف الزامات دہرانا بند کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس مسلسل دعویٰ کرتی رہی کہ پورا منصوبہ ناکارہ ہو چکا ہے۔ تاہم ان کے مطابق یہ دعوے اب ایک ایک کر کے غلط ثابت ہو رہے ہیں۔
این ڈی ایس اے اور سی ڈبلیو پی آر ایس رپورٹس کا حوالہ | Kaleshwaram Project Reports
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ این ڈی ایس اے کے حلف نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ ضرورت کے مطابق کالیشورم سے پانی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف پہلے کے الزامات سے مختلف ہے۔
انہوں نے انارم اور سندیلا بیراجوں سے متعلق سی ڈبلیو پی آر ایس کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں دونوں بیراجوں کے کسی بلاک میں ساختی خرابی نہیں پائی گئی۔ مزید برآں رپورٹ میں کنکریٹ کے معیار کو بھی بہتر قرار دیا گیا۔
ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ ریونت ریڈی حکومت نے سیاسی مخالفت کی وجہ سے کالیشورم منصوبے کو نظر انداز کیا۔ یوں گوداوری کا دستیاب پانی استعمال ہونے کے بجائے نیچے کی سمت بہہ گیا۔
انہوں نے حکومت کے اس رویے کو “مجرمانہ غفلت” قرار دیا۔ لہٰذا انہوں نے فوری اصلاحی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کسانوں کے لیے پانی اٹھانے کا مطالبہ | Kaleshwaram Project Reports
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت نے منصوبے پر الزام لگا کر کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا۔ ان کے مطابق گوداوری کا پانی تلنگانہ میں استعمال کرنے کے بجائے آندھرا پردیش کی سمت بہنے دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کی تنقید کے بعد ہی دیوادولا اور نندی پمپ شروع کیے گئے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت تک زیادہ تر سیلابی پانی بہہ چکا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے الزام لگایا کہ پمپ جلد بند بھی کر دیے گئے۔
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ اس فیصلے سے تلنگانہ کے کسان مناسب پانی سے محروم رہے۔ یوں ریاست کے آبی وسائل سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
ذخائر اور آبی انتظام پر تنقید | Kaleshwaram Project Reports
ٹی ہریش راؤ نے ذخائر میں پانی کی سطح کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ ان کے مطابق ملک بھر کے ذخائر میں اوسط پانی کی سطح 64.16 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں تلنگانہ کے ذخائر میں صرف 35.6 فیصد پانی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کی وجہ کوئی قدرتی آفت نہیں ہے۔ بلکہ ان کے مطابق یہ کانگریس حکومت کی آبی انتظام میں ناکامی کا نتیجہ ہے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی آر ایس دور میں تلنگانہ آبی انتظام کی مثال بن گیا تھا۔
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ اب ریاست ذخائر میں پانی کی سطح کے معاملے میں بہار کے ساتھ موازنہ کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے گوداوری اور کرشنا کا پانی مؤثر انداز میں محفوظ نہیں کیا۔
حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ | Kaleshwaram Project Reports
ٹی ہریش راؤ نے سوال کیا کہ حکومت نے کمیشنوں اور تحقیقات پر زیادہ توجہ کیوں دی۔ انہوں نے کہا کہ دستیاب دریا کے پانی کو محفوظ بنانے پر بھی توجہ دینی چاہیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں اور انجینئروں نے ایل نینو اور ممکنہ خشک سالی سے پہلے ہی خبردار کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق حکومت نے ان انتباہات پر عمل نہیں کیا۔
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ یہ سیاسی انتقام کا وقت نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تلنگانہ کے آبی مفادات کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا کہ اندرونی اختلافات سے بالاتر ہو کر منصوبوں، آبی حقوق اور کسانوں کے مفادات پر توجہ دی جائے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کالیشورم منصوبے کے خلاف مبینہ گمراہ کن مہم بند کرنے کا مطالبہ کیا۔
ٹی ہریش راؤ نے حکومت سے انارم اور سندیلا کے موٹروں کو فوری چلانے کا بھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری کا دستیاب پانی ذخائر میں منتقل کیا جائے۔ یوں کسانوں کے کھیتوں کو بروقت آبپاشی فراہم کی جا سکے گی۔
