کالیشورم پر این ڈی ایس اے کا اہم مؤقف | Kaleshwaram Water
حیدرآباد:۔ کالیشورم منصوبے سے پانی اٹھانے کا اختیار تلنگانہ حکومت کے پاس ہے۔ نیشنل ڈیم سیفٹی اتھارٹی (این ڈی ایس اے) نے ہائی کورٹ میں داخل اپنے حلف نامے میں یہی مؤقف اختیار کیا۔ مزید برآں، ادارے نے اسے حکومتی پالیسی کا معاملہ قرار دیا۔
یہ حلف نامہ ایڈوکیٹ سرتھ کمار کی رٹ پٹیشن کے جواب میں جمع کرایا گیا۔ این ڈی ایس اے نے کہا کہ پانی اٹھانے یا نہ اٹھانے کا فیصلہ ریاستی حکومت کرے گی۔ اس کے علاوہ، حکومت ماہرین کی رائے سے بھی رہنمائی لے سکتی ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ حکومت کو پانی پمپ کرنے کی ہدایت دینا اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ریزروائر کو بھرنے کا فیصلہ بھی حکومت ہی کرے گی۔ لہٰذا، حتمی اختیار ریاستی حکومت کے پاس رہے گا۔
حلف نامے میں میڈی گڈہ بیراج کے ستون سے متعلق معاملے کا بھی ذکر کیا گیا۔ این ڈی ایس اے نے کہا کہ حکومت منصوبے کی ضرورت کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ یوں، ادارے نے تکنیکی مشاورت اور حکومتی پالیسی میں فرق واضح کیا۔
این ڈی ایس اے نے اپنا مؤقف واضح کیا | Kaleshwaram Water
این ڈی ایس اے نے کہا کہ اس نے کالیشورم منصوبے پر تکنیکی معاونت فراہم کی ہے۔ تاہم، پالیسی فیصلے حکومت ہی کرے گی۔ مزید برآں، ادارے نے اپنے کردار کو صرف تکنیکی رہنمائی تک محدود بتایا۔
ادارے کے مطابق حکومت کے پاس پانی اٹھانے کا مکمل اختیار موجود ہے۔ حکومت ضرورت کے مطابق فیصلہ کر سکتی ہے۔ چنانچہ، این ڈی ایس اے نے اپنی ذمہ داری کی حدود بھی واضح کر دیں۔
یہ حلف نامہ ہائی کورٹ میں جاری سماعت کے دوران پیش کیا گیا۔ اس میں ریاستی حکومت کے اختیارات پر زور دیا گیا۔ اسی دوران، منصوبے پر نئی سیاسی بحث بھی شروع ہوگئی۔
بی آر ایس نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا | Kaleshwaram Water
حلف نامے کے بعد بی آر ایس نے کانگریس حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ حکومت منصوبے کو نظر انداز کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کسانوں کو آبپاشی کے پانی سے محروم رکھنے کا الزام بھی لگایا۔
بی آر ایس رہنماؤں نے سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق رپورٹ میں صرف میڈیگڈہ بلاک 7 میں معمولی نقائص بتائے گئے تھے۔ مزید برآں، رپورٹ نے پانی اٹھانے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔
بی آر ایس رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ این ڈی ایس اے کے تازہ حلف نامے سے حکومت کے مؤقف پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت تکنیکی مشورے کی بنیاد پر پانی اٹھانے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ تاہم، یہ مؤقف بی آر ایس رہنماؤں کا ہے۔
ہائی کورٹ میں سماعت جاری | Kaleshwaram Water
فراہم کردہ معلومات کے مطابق بی آر ایس رہنماؤں نے یہ بھی الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے این ڈی ایس اے کی رپورٹ کو سیاسی تنقید کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لہٰذا، انہیں الزام کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
سینئر ایڈوکیٹ سرتھ کمار نے ہائی کورٹ کو این ڈی ایس اے کے حلف نامے سے آگاہ کیا۔ یہ مقدمہ کالیشورم منصوبے کے آپریشن سے متعلق ہے۔ مزید برآں، اس میں ریاستی حکومت کے اختیارات بھی زیر بحث ہیں۔
کالیشورم منصوبہ تلنگانہ کے لیے اہم آبپاشی منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے اس معاملے پر سیاسی اور قانونی دلچسپی برقرار ہے۔ یوں، این ڈی ایس اے کے تازہ حلف نامے نے اس بحث کو ایک نئی سمت دے دی۔
