سائبرآباد پولیس کی بڑی کارروائی | Cyberabad Crackdown
حیدرآباد:۔ سائبرآباد پولیس نے 15 اگست سے 21 اگست کے درمیان خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی مہم چلائی۔ اس کارروائی میں ہراسانی، انسانی اسمگلنگ اور کم عمر بچوں سے متعلق جرائم کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے۔
شی ٹیمز نے اس دوران 109 ڈیکوائے آپریشن کیے۔ مزید برآں، ٹیموں نے عوامی مقامات پر مبینہ نازیبا حرکات کرنے والے 18 افراد کو پکڑا۔
پولیس نے ان کارروائیوں کے بعد 17 پیٹی مقدمات درج کیے۔ اس کے علاوہ، متعدد افراد کی کونسلنگ بھی کی گئی۔
شی ٹیمز نے شکایات پر فوری کارروائی کی | Cyberabad Crackdown
شی ٹیمز کو اسی ہفتے خواتین کی جانب سے 25 شکایات موصول ہوئیں۔ پولیس نے ان شکایات کی بنیاد پر 3 پیٹی مقدمات درج کیے۔
مزید برآں، باقی افراد کی کونسلنگ کی گئی۔ لہٰذا، پولیس نے قانونی کارروائی کے ساتھ اصلاحی اقدامات بھی جاری رکھے۔
پولیس نے عوامی مقامات پر خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات پر خصوصی نظر رکھی۔ یوں، ہفتہ بھر نگرانی اور کارروائیاں مسلسل جاری رہیں۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائی | Cyberabad Crackdown
اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ نے 2 مقدمات میں 2 متاثرین کو بحفاظت بچایا۔ یہ مقدمات غیر اخلاقی انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت درج کیے گئے تھے۔
مزید برآں، پولیس نے ان دونوں مقدمات میں 4 ملزمان کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ، ایک علیحدہ مقدمے میں 2 کم عمر لڑکوں کو بھی بچایا گیا۔
اسی دوران، جووینائل جسٹس ایکٹ کے تحت درج مقدمے میں 2 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ لہٰذا، کارروائی میں انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے تحفظ دونوں پر توجہ دی گئی۔
خاندانی تنازعات بھی حل کیے گئے | Cyberabad Crackdown
پولیس اور فیملی کاؤنسلنگ سینٹروں نے ہفتے کے دوران 32 خاندانوں میں صلح کرائی۔ یہ خاندان ازدواجی تنازعات کا سامنا کر رہے تھے۔
مزید برآں، پولیس نے قانونی کارروائی کے ساتھ سماجی بحالی پر بھی زور دیا۔ یوں، کئی خاندان دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوئے۔
آگاہی مہم سے ہزاروں افراد مستفید | Cyberabad Crackdown
اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ اور شی ٹیمز نے مختلف مقامات پر آگاہی پروگرام منعقد کیے۔ ان پروگراموں سے تقریباً 4,974 افراد مستفید ہوئے۔
مزید برآں، انسانی اسمگلنگ، بچوں کی اسمگلنگ، چھیڑ چھاڑ، تعاقب اور سائبر ہراسانی پر معلومات فراہم کی گئیں۔ اس کے علاوہ، آن لائن فراڈ، سائبر بُلنگ اور بچوں کو درپیش خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
پولیس نے کم عمری کی شادی، بچوں کے حقوق اور چائلڈ لیبر سے متعلق بھی آگاہ کیا۔ لہٰذا، شہریوں کو فوری مدد کے ذرائع سے بھی روشناس کرایا گیا۔
ہیلپ لائن نمبرز سے بھی آگاہ کیا گیا | Cyberabad Crackdown
پولیس نے پروگراموں کے دوران خواتین کی ہیلپ لائن 181 اور چائلڈ ہیلپ لائن 1098 کی معلومات فراہم کیں۔ مزید برآں، ایمرجنسی نمبرز 100 اور 112 سے متعلق بھی رہنمائی دی گئی۔
اس کے علاوہ، سائبر جرائم کی شکایات کے لیے ہیلپ لائن 1930 کے استعمال کی ترغیب دی گئی۔ یوں، سائبرآباد پولیس نے قانون نافذ کرنے کے ساتھ عوامی آگاہی کو بھی اپنی مہم کا اہم حصہ بنایا۔
