رائس ملرز کے خلاف 28 اہلکار تعینات | Rice Millers
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے محکمہ شہری رسد نے نادہندہ رائس ملرز کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔ محکمہ نے گرے ہاؤنڈز اور آکٹوپس یونٹوں کے 28 اہلکار انفورسمنٹ اینڈ ویجلنس ونگ میں تعینات کیے۔ مزید برآں، ان اہلکاروں کو ریاست بھر میں خصوصی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔
محکمہ شہری رسد کے کمشنر ایم اسٹیفن رویندر نے جمعہ کو سول سپلائز بھون میں اہلکاروں سے ملاقات کی۔ انہوں نے نئی ٹیموں کو ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔ اسی دوران اہلکاروں نے محکمانہ طریقہ کار اور ضروری اشیاء سے متعلق قوانین کی خصوصی تربیت مکمل کی۔
کمشنر نے کہا کہ نئی ٹیمیں تلنگانہ بھر میں خدمات انجام دیں گی۔ اس کے علاوہ وہ اچانک معائنے بھی کریں گی۔ لہٰذا ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے رائس ملرز کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔
زیرو ٹالرنس پالیسی پر سخت عمل | Rice Millers
ایم اسٹیفن رویندر نے واضح کیا کہ محکمہ زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جائیں گے۔ مزید برآں، سخت قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انفورسمنٹ ٹیمیں ریاست کے مختلف اضلاع میں اچانک چھاپے ماریں گی۔ یوں خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی ممکن ہوگی۔ اس کے علاوہ تمام کارروائیاں قانونی ضابطوں کے مطابق انجام دی جائیں گی۔
ریکارڈ دھان خریداری کے بعد نگرانی میں اضافہ | Rice Millers
یہ خصوصی مہم تلنگانہ میں ریکارڈ دھان خریداری کے بعد شروع کی گئی ہے۔ ریاست نے کے ایم ایس 2025-26 کے دوران 154 لاکھ میٹرک ٹن دھان خریدا۔ مزید برآں، حکومت نے اس عمل پر تقریباً ₹40,000 کروڑ خرچ کیے۔
محکمہ شہری رسد نے کہا کہ اتنی بڑی خریداری کے بعد نگرانی مزید مضبوط بنائی گئی ہے۔ لہٰذا فیلڈ سطح پر انفورسمنٹ نظام کو وسعت دی گئی ہے۔
نئے تعینات اہلکار ریاست بھر میں اچانک معائنوں میں حصہ لیں گے۔ اس کے علاوہ وہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے رائس ملرز کے خلاف کارروائی کریں گے۔ یوں محکمہ شفافیت اور قانون پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گا۔
