بینکوں سے تلنگانہ کی معیشت مضبوط بنانے کا مطالبہ | Telangana Growth
حیدرآباد:۔ نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ کے معاشی اہداف حاصل کرنے میں بینکوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بینک ریاست کے حقیقی ترقیاتی شراکت دار بنیں۔ مزید برآں، انہوں نے مالیاتی اداروں سے مستقبل کی ضروریات کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے یہ بات بدھ کے روز 50ویں اسٹیٹ لیول بینکرز کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ اجلاس مہاتما جوتی راؤ پھولے پرجا بھون میں منعقد ہوا۔ اسی دوران انہوں نے ریاست کے طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ تلنگانہ نے 2034 تک $1 ٹریلین معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 تک ریاست کو $3 ٹریلین معیشت میں تبدیل کرنا بھی مقصد ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صرف سرکاری اخراجات سے یہ ہدف حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کو بڑے پیمانے پر نجی سرمایہ کاری درکار ہے۔ اس کے علاوہ مضبوط مالیاتی ادارے بھی ناگزیر ہیں۔ یوں گہرے مالیاتی بازار اور جدید سرمایہ کاری کے ذرائع بھی ضروری ہوں گے۔
تلنگانہ کی معاشی حکمت عملی | Telangana Growth
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ “تلنگانہ رائزنگ 2047” عوام کے ساتھ ترقی کا مشترکہ عہد ہے۔ لہٰذا انہوں نے بینکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی حکمت عملی ریاست کے طویل مدتی معاشی وژن کے مطابق ترتیب دیں۔
انہوں نے کہا کہ بینک صرف قرضوں کے اہداف کا جائزہ نہ لیں۔ اس کے علاوہ قرضوں کے حقیقی ترقیاتی نتائج بھی جانچیں۔ مزید برآں، ہر مالی منصوبے کے معاشی اثرات کی پیمائش بھی ضروری ہے۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بینک یہ بھی دیکھیں کہ قرضوں سے کتنی نئی صنعتیں قائم ہوئیں۔ اسی دوران انہیں پیدا ہونے والی نئی ملازمتوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار اہم اشاریہ ہونی چاہیے۔ دیہی آمدنی بھی کارکردگی کا معیار بننی چاہیے۔ چنانچہ نجی سرمایہ کاری میں اضافہ بھی بینکاری کی کامیابی کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔
دیہی قرضوں پر خصوصی توجہ | Telangana Growth
نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دیہی اور زرعی شعبے تلنگانہ کی معیشت کی بنیاد ہیں۔ لہٰذا کسانوں کو ضرورت کے وقت ادارہ جاتی قرضے ملنے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ اہل کسانوں کو قرض کے لیے بار بار بینکوں کے چکر نہیں لگانے چاہئیں۔ اس کے علاوہ بینکاری نظام خود کسانوں تک پہنچے۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ڈیری، ماہی پروری اور باغبانی کو بھی باضابطہ قرضہ نظام میں شامل کیا جائے۔ مزید برآں آئل پام، فوڈ پروسیسنگ اور متعلقہ شعبوں کو بھی ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کا مقصد صرف تعداد بڑھانا نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ کسانوں کی آمدنی میں پائیدار اضافہ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ یوں زرعی شعبہ مضبوط ہوگا اور معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔
بینکاری اصلاحات سے معاشی اہداف کی تکمیل | Telangana Growth
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ بینکاری شعبے میں مؤثر تبدیلی ریاست کے معاشی مستقبل کے لیے اہم ہے۔ لہٰذا انہوں نے بینکاروں سے اپیل کی کہ وہ قرضہ پالیسی کو ریاستی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کریں۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط مالیاتی نظام سرمایہ کاری کو فروغ دے گا۔ اس کے علاوہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ یوں تلنگانہ اپنے معاشی اہداف کی جانب تیزی سے پیش قدمی کر سکے گا۔
