ٹی ہریش راؤ کا لائسنس یافتہ سروے کاروں سے مذاکرات کا مطالبہ | Licensed Surveyors
حیدرآباد:۔ سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے 6 ہزار لائسنس یافتہ سروے کاروں سے فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے احتجاج سے نمٹنے کے حکومتی طریقہ کار پر سخت تنقید کی۔ اس کے علاوہ پولیس کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے۔
ٹی ہریش راؤ نے تلنگانہ بھون میں سروے کاروں سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مطالبات پیش کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے احتجاج کرنے والے سروے کاروں کو گھسیٹ کر تھانوں میں منتقل کیا۔ مزید برآں، انہوں نے الزام لگایا کہ زیر حراست افراد کو کھانا بھی فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس معاملے کی فوری جانچ کا مطالبہ کیا۔
ٹی ہریش راؤ نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی اور وزیر مالیات و ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی سے فوری مداخلت کی اپیل کی۔ لہٰذا انہوں نے کہا کہ احتجاج مزید بڑھنے سے پہلے مذاکرات شروع کیے جائیں۔ ان کے مطابق یہی بہترین حل ہے۔
حکومت کو مذاکرات کی تجویز | Licensed Surveyors
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ 6 ہزار سروے کار اور ان کے خاندان ایک بڑی سماجی قوت بن سکتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات نظر انداز کرنے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے فوری حل پر زور دیا۔
انہوں نے آئی اے ایس افسر لوکیش کمار کے مبینہ بیان پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق کئی لائسنس یافتہ سروے کار بی ٹیک، ایم ٹیک اور سول انجینئرنگ کی ڈگری رکھتے ہیں۔ انہوں نے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔
ٹی ہریش راؤ نے الزام لگایا کہ لوکیش کمار نے سروے کاروں سے متعلق غیر ذمہ دارانہ تبصرہ کیا۔ مزید برآں، انہوں نے اس مبینہ بیان کو حکومتی تکبر کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے اس پر وضاحت کا مطالبہ بھی کیا۔
انہوں نے حالیہ طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کا بھی حوالہ دیا۔ اسی دوران انہوں نے حکومت کو نوجوانوں کو کمزور نہ سمجھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی مسئلے کا مؤثر راستہ ہیں۔
مالی مسائل پر تشویش | Licensed Surveyors
ٹی ہریش راؤ نے سروے کاروں کی مالی مشکلات پر بھی بات کی۔ سابق ریاستی وزیر نے کہا کہ 2 سروے کار قرض اور گھریلو پریشانیوں کے باعث خودکشی کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ سروے کاروں کو کم از کم تنخواہ حاصل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ انہیں سفری الاؤنس، یومیہ الاؤنس اور ہیلتھ انشورنس بھی نہیں ملتی۔ ان کے مطابق انہیں اپنے اخراجات خود برداشت کرنے پڑتے ہیں۔
ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ سروے کاروں کو فی ایکڑ صرف ₹60 ملتے ہیں۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ ایندھن اور کھانے کے اخراجات اس سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ نظام قابل عمل نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض کلکٹروں نے سروے کاروں کو رشوت کے ذریعے رقم حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔ ہریش راو نے اس دعوے کو حکومتی نظام کی ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ملازمتوں کے دعووں پر سوالات | Licensed Surveyors
ٹی ہریش راؤ نے سرکاری ملازمتوں سے متعلق حکومت کے دعووں پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت نے 70 ہزار ملازمتوں کا غلط دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق سابق حکومت نے بیشتر تقرریوں کا عمل مکمل کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی حکومت نے کئی بھرتیوں کے نوٹیفکیشن جاری کیے تھے۔ مزید برآں، امتحانات اور نتائج بھی اسی دور میں مکمل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت نے صرف تقرری نامے جاری کیے۔
ٹی ہریش راؤ نے دعویٰ کیا کہ اسمبلی میں حکومت نے صرف 16,500 ملازمتوں کا اعتراف کیا۔ اسی دوران انہوں نے راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کے 2 لاکھ ملازمتوں کے وعدے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے حکومت کے اعداد و شمار پر اعتراض کیا۔
آخر میں ٹی ہریش راؤ نے سروے کاروں سے مایوس نہ ہونے کی اپیل کی۔ مزید برآں، انہوں نے یقین دلایا کہ بی آر ایس ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے حکومت سے فوری مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
