غدر ڈاکیومنٹری پوسٹر جاری | Gaddar Legacy
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے غدر کی ڈاکیومنٹری کا پوسٹر جاری کیا۔ انہوں نے غدر کو عوامی تحریکوں کی مضبوط آواز قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ غدر نے اپنی زندگی عوامی جدوجہد کے لیے وقف کی۔
وزیر نے کہا کہ غدر نے اپنے گیتوں سے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے عوام کو مختلف تحریکوں میں شریک ہونے کی ترغیب دی۔ اس کے علاوہ، ان کی آواز ہمیشہ مظلوم طبقے کے ساتھ کھڑی رہی۔
کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی بھی غدر کا بے حد احترام کرتے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ریاستی حکومت نے غدر کے نام پر غدر فلم ایوارڈز بھی قائم کیے۔ لہٰذا، حکومت ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔
غدر کی جدوجہد نئی نسل تک | Gaddar Legacy
وزیر نے کہا کہ یہ ڈاکیومنٹری غدر کی زندگی کو عوام کے سامنے لانے کی اہم کوشش ہے۔ مزید برآں، اس سے نوجوان نسل کو ان کے نظریات جاننے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ کئی ایسے پہلو موجود ہیں جو اب تک نئی نسل سے پوشیدہ ہیں۔ یوں، یہ ڈاکیومنٹری ان تمام پہلوؤں کو نمایاں کرے گی۔ اس کے علاوہ، یہ غدر کی انقلابی جدوجہد کو محفوظ بھی کرے گی۔
کومٹ ریڈی نے کہا کہ اس فلم میں مختلف عوامی تحریکوں کا سفر دکھایا جائے گا۔ اسی دوران، غدر کی ثابت قدمی اور قربانیوں کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔ لہٰذا، آنے والی نسلیں ان کی خدمات سے آگاہ رہیں گی۔
حکومت کے مکمل تعاون کا اعلان | Gaddar Legacy
غدر کی صاحبزادی وینیلا نے اس ڈاکیومنٹری کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ وزیر نے ان کی کوشش کو قابل تعریف قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے مکمل سرکاری تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس منصوبے کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ اس کے علاوہ، متعلقہ ادارے بھی ضروری تعاون فراہم کریں گے۔ یوں، یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوسکے گا۔
وزیر نے کہا کہ غدر کے نظریات کو محفوظ رکھنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ لہٰذا، ان کی جدوجہد کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تحریکوں میں غدر کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
غدر کی خدمات ہمیشہ یاد رہیں گی | Gaddar Legacy
کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ غدر صرف ایک گلوکار نہیں تھے۔ وہ عوامی حقوق کی علامت تھے۔ مزید برآں، انہوں نے اپنی پوری زندگی محروم طبقات کی آواز بلند کرنے میں گزاری۔
انہوں نے کہا کہ غدر کی سوچ آج بھی معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ یوں، یہ ڈاکیومنٹری ان کے پیغام کو مزید مضبوط انداز میں آگے بڑھائے گی۔ اس کے علاوہ، نئی نسل ان کی جدوجہد سے عملی سبق حاصل کرے گی۔
