بی آر ایس کا ممنوعہ جائیدادوں پر حکومت پر حملہ | Prohibited Properties
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) نے الزام عائد کیا ہے کہ حیدرآباد میں اربوں روپے مالیت کی نجی جائیدادیں ممنوعہ فہرست میں شامل کر دی گئی ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ہزاروں جائیداد مالکان غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں۔
بی آر ایس نے 18 اگست کو سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ کیا۔ مزید برآں، پارٹی نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کی ریونیو پالیسیوں نے جائیداد مالکان کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
پارٹی کے مطابق سابق بی آر ایس حکومت کے دور میں متعارف کرایا گیا دھرنی پورٹل ختم کر دیا گیا۔ تاہم، بی آر ایس کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ریونیو خدمات بہتر ہونے کے بجائے مزید مسائل پیدا ہوئے۔
بھوبھارتی نظام پر اعتراض | Prohibited Properties
بی آر ایس نے کانگریس حکومت کے متعارف کردہ بھوبھارتی نظام پر بھی تنقید کی۔ پارٹی کے مطابق اس نظام کے بعد کئی جائیدادیں ممنوعہ فہرست میں شامل ہو گئیں۔
بی آر ایس کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے سرکاری زمینوں کے ساتھ نجی املاک بھی متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ، کئی اہم علاقوں کی جائیدادیں بھی اس مسئلے کی زد میں آ گئیں۔
پارٹی نے بنجارہ ہلز، جوبلی ہلز، مادھا پور، ہائی ٹیک سٹی، گچی باؤلی، شیخ پیٹ، امیرپیٹ، خیریت آباد اور پنجہ گٹہ کا بھی ذکر کیا۔ ان علاقوں میں قیمتی رہائشی اور تجارتی جائیدادیں موجود ہیں۔
جائیداد مالکان میں بے چینی | Prohibited Properties
بی آر ایس کے مطابق ان علاقوں میں امیر شہریوں اور غیر ملکی اداروں کی سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔ لہٰذا، ممنوعہ فہرستوں نے سرمایہ کاروں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے۔
پارٹی نے الزام لگایا کہ بعض آباد مکانات اور خالی پلاٹ بھی ممنوعہ فہرستوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ مزید برآں، مالکان کو جائیداد فروخت کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بی آر ایس نے کہا کہ اس صورتحال سے غریب اور متوسط طبقہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ضرورت کے وقت لوگ اپنی جائیداد سے آزادانہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
رئیل اسٹیٹ پر اثرات کا دعویٰ | Prohibited Properties
پارٹی نے الزام لگایا کہ یہ پابندیاں گریٹر حیدرآباد میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، رئیل اسٹیٹ شعبہ بھی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔
بی آر ایس کے مطابق کانگریس حکومت بہتر ریونیو نظام فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کر سکی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بھوبھارتی نظام نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
بی آر ایس نے یہ بھی الزام لگایا کہ خامیوں اور تنازعات کی بنیاد پر متعدد جائیدادوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ تاہم، پارٹی نے اپنے دعووں کے حق میں کسی مخصوص سرکاری ریکارڈ یا سرکاری اعداد و شمار پیش نہیں کیے۔
پارٹی نے حکومت کے اقدامات کو سیاسی قرار دیا۔ چنانچہ، بی آر ایس نے دعویٰ کیا کہ گریٹر حیدرآباد میں اس معاملے پر عوامی ناراضی بڑھ رہی ہے اور حکومت کو متاثرہ جائیداد مالکان کے مسائل پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
