محمد علی شبیر کا فلاحی روڈ میپ | Social Justice
حیدرآباد:۔ حکومت تلنگانہ کے مشیر برائے ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی بہبود محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں کمزور طبقات کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے عادل آباد میں 80 ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مختلف فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات پیش کیں۔
شبیر علی نے کہا کہ حکومت نے سماجی انصاف کو اپنی پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا ہے۔ مزید برآں رہائش، صحت، تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور معاشی استحکام کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اہل مستحقین کے لیے حکومت کی 6 ضمانتوں پر عمل جاری ہے۔
ایس سی، قبائلی اور اقلیتی فلاح | Social Justice
شبیر علی نے بتایا کہ عادل آباد میں 11.10 کروڑ روپے سے 3 ایس سی ہاسٹل تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 96 لاکھ روپے مرمت کے لیے خرچ کیے گئے۔ 2025-26 کے دوران 1,990 طلبہ کو 78.60 لاکھ روپے کے پری اور پوسٹ میٹرک وظائف بھی فراہم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایس سی اسٹڈی سرکل نے 1,092 امیدواروں کو تربیت دی۔ ان میں 225 امیدوار سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ مزید برآں 22 بین ذات شادیوں کے جوڑوں کو 55 لاکھ روپے دیے گئے جبکہ امبیڈکر اوورسیز ودیا ندھی کے تحت 10.69 لاکھ روپے بھی جاری کیے گئے۔
قبائلی بہبود کے لیے حکومت نے 15 کروڑ روپے سے نئے آئی ٹی ڈی اے دفتر کی منظوری دی۔ نرنور منڈل نے نیتی آیوگ 2025 ڈیلٹا رینکنگ میں قومی سطح پر چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اسی دوران اسے ڈیٹا زمرے میں پہلی پوزیشن اور 1.5 کروڑ روپے کا انعام بھی ملا۔
انہوں نے بتایا کہ لاک کی کاشت، واڑی زرعی منصوبوں، دال مل، مہوا لڈو اور بانس یونٹس کے ذریعے قبائلی روزگار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کیسلہ پور ناگوبا جاترا کو قومی سطح پر شناخت بھی حاصل ہوئی ہے۔
خواتین اور عوامی فلاحی اسکیمیں | Social Justice
شبیر علی نے کہا کہ بی سی بھون کے لیے ماوالا میں 4 ایکڑ اراضی مختص کی گئی ہے۔ 6 کمہار خاندانوں کو 6.53 لاکھ روپے کی مشینری دی گئی۔ حکومت نے ان کے لیے مفت مٹی فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔
انہوں نے بتایا کہ اندراما اقلیتی مہیلا یوجنا کے تحت 100 خواتین کو 50 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ 10 مستحقین کو 100 فیصد سبسڈی پر موٹر سائیکلیں دی گئیں جبکہ 400 خواتین میں سلائی مشینیں تقسیم کی گئیں۔ مزید برآں 2,989 طلبہ کو پوسٹ میٹرک وظائف بھی فراہم کیے گئے۔
شبیر علی نے کہا کہ مہالکشمی اسکیم کے تحت خواتین نے 389.26 لاکھ مفت بس سفر کیے۔ اس سے تقریباً 16.09 کروڑ روپے کی بچت ہوئی۔ 1.02 لاکھ خواتین کو 500 روپے میں ایل پی جی سلنڈر بھی فراہم کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2,26,733 خاندانوں کے لیے اسمارٹ راشن کارڈ تیار کیے جا رہے ہیں۔ 37,420 نئے راشن کارڈ جاری کیے گئے جبکہ 1.03 لاکھ خاندانوں کو گرہا جیوتھی کے تحت مفت بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
تعلیم، زراعت اور ترقیاتی منصوبے | Social Justice
شبیر علی نے کہا کہ عادل آباد، اوٹنور اور بوتھ میں ینگ انڈیا انٹیگریٹڈ رہائشی اسکول قائم کیے جا رہے ہیں۔ ہر اسکول پر 200 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ 251 اسکولوں میں آروگیہ پاٹھ شالہ اور 238 اسکولوں میں اسپوکن انگلش پروگرام بھی نافذ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رعیتو بھروسہ کے تحت 1,61,121 کسانوں کو 327.92 کروڑ روپے فراہم کیے گئے۔ اس کے علاوہ پی ایم کسان، رعیتو بیمہ، کپاس، سویا بین، چنا اور جوار کی خریداری بھی جاری رہی۔ صحت کے شعبے میں آروگیہ شری کے تحت 2,558 مریضوں کے علاج پر 8.75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
شبیر علی نے کہا کہ عادل آباد نے آبی تحفظ میں جنوبی بھارت میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ضلع کو صدر جمہوریہ کی جانب سے اعزاز اور 2 کروڑ روپے کا انعام بھی ملا۔ مزید برآں تلنگانہ جلسری، مشن بھگیرتا، لوئر پین گنگا، چانکا کوراٹا، پپیری، تیجاپور اور بگگارام آبپاشی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2,278.14 کروڑ روپے کے عادل آباد جوائنٹ یوزر ایئر فیلڈ کی منظوری دی جا چکی ہے۔ بوراج منڈل میں صنعتی پارک بھی قائم کیا جا رہا ہے جبکہ ماوالا کا 40 کروڑ روپے کا آئی ٹی ٹاور افتتاح کے لیے تیار ہے۔
تقریب میں محمد علی شبیر نے پولیس پریڈ گراؤنڈ میں قومی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں انہوں نے ثقافتی پروگرام دیکھے اور نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ ضلع کلکٹر راجرشی شاہ، ایس پی اکھل مہاجن، ارکان اسمبلی انیل جادھو، پایل شنکر، رکن پارلیمنٹ ناگیش اور میونسپل چیئرپرسن انوشا سمیت عوامی نمائندوں اور شہریوں نے تقریب میں شرکت کی۔
