کے ٹی آر کا یومِ آزادی خطاب ، کانگریس اور مرکز پر تنقید | KTR Criticism
حیدرآباد:۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ نے تلنگانہ بھون میں 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہرایا۔ بعد ازاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے خطاب کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے عوام کو یومِ آزادی کی مبارکباد بھی دی۔
کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ بھارت مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے باوجود ایک قومی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ آزادی کے 80 برس بعد بھی ملک مجاہدین آزادی کے خوابوں کے مطابق ترقی حاصل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ کئی دیہات آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔
مرکز کی پالیسیوں پر تنقید | KTR Criticism
کے ٹی راما راؤ نے مرکزی حکومت کو ترقی اور آبی وسائل کے استعمال پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کی سوچ کا احترام ہونا چاہیے۔ مزید برآں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں دستیاب پانی سے بہتر فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔
انہوں نے سابق وزیراعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ ہر ایکڑ زمین تک آبپاشی کا پانی پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر حکمرانی سے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے چین اور بھارت کی ترقی کا تقابلی ذکر بھی کیا۔
ریونت ریڈی حکومت پر سوالات | KTR Criticism
کے ٹی راما راؤ نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت پر بھی تنقید کی۔ بی آر ایس قائد نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت تلنگانہ کی ترقی کے معاملے میں عوام کی توقعات پوری نہیں کر سکی۔
انہوں نے کلیانہ لکشمی معاملے اور بجلی کی فراہمی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں ریاست میں چوبیس گھنٹے بجلی فراہم کی گئی۔
مزید برآں انہوں نے الزام لگایا کہ حیدرآباد سمیت کئی علاقوں میں دوبارہ بجلی کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست کے مالی حالات سے متعلق الزامات کو بھی مسترد کیا۔
بی آر ایس سرگرمیوں میں تیزی کا اعلان | KTR Criticism
کے ٹی راما راؤ نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ تمام اضلاع میں روزانہ عوامی پروگرام منعقد کریں۔ انہوں نے کارکنوں کے تحفظ اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ یوں انہوں نے آئندہ دنوں میں بی آر ایس کی سرگرمیاں بڑھانے کا اعلان کیا۔
انہوں نے تلنگانہ بھون کے 20 سال مکمل ہونے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کے چندر شیکھر راؤ نے اس عمارت کو تلنگانہ تحریک کی علامت کے طور پر تصور کیا تھا۔ آخر میں انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بی آر ایس دوبارہ اقتدار میں آکر تلنگانہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔
