سوریہ پیٹ میں متنوع کاشتکاری پر زور | Crop Diversification
حیدرآباد:۔ سوریہ پیٹ ضلع کے کلکٹر تیجس نند لال پوار نے کسانوں پر زور دیا کہ کراپ ڈائیورسیفکیشن یعنی متنوع فصلوں کی کاشت کو اپنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے زرعی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس حکمت عملی سے کاشتکاری کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
کلکٹر نے کسان پاشم وینکٹا ریڈی کے 2 ایکڑ کھیت کا دورہ کیا۔ انہوں نے وہاں متنوع فصلوں کے ماڈل کا جائزہ لیا۔ کسان اپنے کھیت میں 6 مختلف فصلیں اگا رہے ہیں۔ یہ ماڈل دیگر کسانوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔
پاشم وینکٹا ریڈی اپنے کھیت میں توری، مرچ، بھنڈی، بینگن، لوکی اور گیندا کے پھول کی کاشت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک ہی فصل پر انحصار ختم کیا ہے۔ یوں ممکنہ مالی نقصان کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔
کلکٹر نے کاشت کے طریقوں، پیداوار اور مارکیٹنگ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ کسان نے ہر فصل سے متوقع آمدنی کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف فصلیں سال بھر آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
30 گنٹہ زمین پر مرچ کی کاشت کی گئی ہے۔ کسان کو تقریباً 10 ٹن پیداوار کی امید ہے۔ اسی طرح توری کی متوقع پیداوار تقریباً 4 ٹن بتائی گئی۔
گیندا کے پھول کی پیداوار 1.5 سے 2 ٹن رہنے کی توقع ہے۔ بھنڈی اور لوکی کی مشترکہ پیداوار تقریباً 1 ٹن ہو سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار متنوع کاشتکاری کی افادیت ظاہر کرتے ہیں۔
متنوع فصلوں کے فوائد | Crop Diversification
پاشم وینکٹا ریڈی نے کلکٹر کو بتایا کہ مختلف فصلوں کی کاشت سے خطرات تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ایک فصل متاثر ہونے کی صورت میں دوسری فصل آمدنی فراہم کرتی ہے۔ اس طرح مالی استحکام برقرار رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متنوع کاشتکاری مسلسل آمدنی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر سیزن میں مختلف فصلیں اگاتے ہیں۔ اس طریقے سے منافع میں بھی بہتری آئی ہے۔
کلکٹر تیجس نند لال پوار نے کسان کی حکمت عملی کو سراہا۔ انہوں نے دوسرے کسانوں کو بھی مقامی حالات کے مطابق اسی ماڈل پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ہر علاقے کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
نامیاتی کاشتکاری کی حوصلہ افزائی | Crop Diversification
بعد ازاں کلکٹر نے سرینواساپورم گاؤں میں 5 ایکڑ پر قائم ڈریگن فروٹ فارم کا دورہ کیا۔ یہ فارم کسان پروپلی سرینواس راؤ چلاتے ہیں۔ انہیں سری سری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
سرینواس راؤ مکمل طور پر نامیاتی طریقے سے ڈریگن فروٹ کی کاشت کرتے ہیں۔ کلکٹر نے ان سے پیداوار اور انٹر کراپنگ کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں۔ انہوں نے منافع بڑھانے کے لیے مناسب معاون فصلیں اپنانے کا مشورہ دیا۔
کلکٹر نے کھیت کی سرحدوں پر مختلف اقسام کے درخت لگانے کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ درخت اضافی آمدنی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ماحول کے لیے بھی مفید ثابت ہوں گے۔
آمدنی بڑھانے کی نئی حکمت عملی | Crop Diversification
تیجس نند لال پوار نے کسانوں کو متنوع فصلوں کی کاشت کو نامیاتی اور مربوط زرعی طریقوں کے ساتھ جوڑنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پیداوار بہتر ہوگی۔ چنانچہ کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جدید زرعی طریقے کسانوں کو بدلتے موسمی حالات کا بہتر مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ مزید برآں مختلف فصلوں کی کاشت مالی خطرات کم کرتی ہے۔ اسی دوران نامیاتی کاشت زمین کی زرخیزی کو بھی برقرار رکھتی ہے۔
