تلنگانہ کی گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ پر زور | Ganga Jamuni Tehzeeb
حیدرآباد:۔ اقلیتی بہبود اور سرکاری اداروں کے وزیر محمد اظہرالدین نے گنگا جمنی تہذیب کے تحفظ پر زور دیا ہے۔ انہوں نے عوام سے امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ اظہرالدین نے کہا کہ تلنگانہ کی اجتماعی ترقی کے لیے اتحاد ضروری ہے۔
اظہرالدین نے قاضی پیٹ کے درگاہ شریف میں عرس مبارک میں شرکت کی۔ یہ عرس حضرت سید شاہ افضل بیابانیؒ کی یاد میں منعقد ہوا۔ یہ درگاہ ضلع ہنمکنڈہ میں واقع ہے اور ہر سال عقیدت مندوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔
وزیر نے لوگوں سے مذہبی اور سماجی اختلافات سے بالاتر ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی سمجھ بوجھ سے اجتماعی کوششیں زیادہ مؤثر ہوتی ہیں۔ مزید برآں انہوں نے مختلف برادریوں کے درمیان مضبوط روابط کی ضرورت پر زور دیا۔
اظہرالدین نے روحانی رہنماؤں اور صوفی بزرگوں کی عالمگیر تعلیمات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات سے مختلف طبقات کے درمیان تعلقات مضبوط ہوسکتے ہیں۔ ان کا پیغام امن اور بھائی چارے کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
قاضی پیٹ کے عرس میں اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام | Ganga Jamuni Tehzeeb
وزیر نے عقیدت مندوں کو عرس کے موقع پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے عرس میں شرکت پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ اظہرالدین نے کہا کہ یہ تقریب بزرگ صوفی کی روحانی میراث یاد کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے درگاہ کی ترقی کے لیے باہمی مشاورت پر زور دیا۔ انہوں نے منتظمین اور متعلقہ افراد سے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق مشترکہ کوششیں درگاہ اور عقیدت مندوں کی فلاح میں مدد کریں گی۔
وزیر نے عرس سے جڑی روایات محفوظ رکھنے کی بھی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سابق نسلوں کی روایات آئندہ نسلوں تک پہنچنی چاہئیں۔ یوں روحانی اور ثقافتی ورثہ مسلسل برقرار رہ سکتا ہے۔
اظہرالدین نے عقیدت مندوں سے صوفی بزرگوں کی تعلیمات سمجھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان تعلیمات کو صرف سالانہ عرس تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ان کا پیغام روزمرہ زندگی میں بھی رہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔
حضرت سید شاہ افضل بیابانیؒ کی روحانی میراث | Ganga Jamuni Tehzeeb
حضرت سید شاہ افضل بیابانیؒ 1795 سے 1856 تک حیات رہے۔ وہ سابق ریاست حیدرآباد میں ورنگل سے وابستہ معروف صوفی بزرگ تھے۔ ان کی درگاہ قاضی پیٹ میں آج بھی اہم روحانی مرکز ہے۔
نظام علی خان المعروف آصف جاہ ثانی کے دور میں انہوں نے قاضی ورنگل کی ذمہ داری سنبھالی۔ ان کی روحانی خدمات نے مختلف طبقات میں انہیں احترام دلایا۔ درگاہ آج بھی زائرین اور عقیدت مندوں کے لیے اہم مقام ہے۔
مختلف برادریوں کی شرکت نے ہم آہنگی اجاگر کردی | Ganga Jamuni Tehzeeb
سالانہ عرس میں تلنگانہ کے مختلف علاقوں سے عقیدت مند پہنچے۔ ملک کے دیگر حصوں سے بھی زائرین نے شرکت کی۔ مختلف برادریوں اور پس منظر کے افراد کی موجودگی نمایاں رہی۔
منتظمین نے پیر کو صندل کی رسم ادا کی۔ اس کے بعد محفل چراغاں کا انعقاد ہوا۔ بعد ازاں محفل دعا بھی منعقد کی گئی۔
ریونیو کے وزیر پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ اوقاف کی وزیر کونڈا سریکھا بھی تقریب میں موجود تھیں۔ مقامی رکن اسمبلی اور منتخب نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
سینئر عہدیداروں اور مذہبی علماء نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔ عقیدت مندوں اور عوام کی بڑی تعداد تقریب میں شریک ہوئی۔ اس اجتماع نے روحانیت، امن اور بھائی چارے کے پیغام کو نمایاں کیا۔
عرس میں مختلف طبقات کی شرکت گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی کرتی ہے۔ اس روایت میں مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کو اہمیت حاصل ہے۔ اسی دوران بزرگ کی تعلیمات امن اور اجتماعی اتحاد کی یاد دلاتی ہیں۔
