رجسٹرڈ ماہی گیروں کے لیے بیمہ فیصلہ | Fisher Insurance Cover
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت نے 2026-27 مالی سال کے لیے بڑا بیمہ فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے 4,21,767 رجسٹرڈ ماہی گیروں کو گروپ بیمہ دینے کی منظوری دی ہے۔ وزیر وکیتی سری ہری نے اس فیصلے کا اعلان کیا۔ اسکیم کا مقصد ماہی گیر خاندانوں کو بہتر سماجی اور مالی تحفظ دینا ہے۔
اس اسکیم میں 18 سے 70 سال تک کے رجسٹرڈ ماہی گیر شامل ہوں گے۔ حکومت نے اہل ماہی گیروں سے پریمیم وصول نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح مستحق افراد کو بیمہ تحفظ کے لیے کوئی رقم ادا نہیں کرنا ہوگی۔ حکومت نے اسے ماہی گیر برادری کی فلاح کے اہم اقدام کے طور پر پیش کیا ہے۔
ہر مستحق ماہی گیر کے لیے بیمہ پریمیم 79.96 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ مرکز اور ریاستی حکومت اس پریمیم کو 60:40 کے تناسب سے برداشت کریں گی۔ ریاستی حکومت اپنے حصے کے طور پر 21,34,79,673 روپے ادا کرے گی۔ چنانچہ بیمہ کوریج کا مالی بوجھ ماہی گیروں پر نہیں پڑے گا۔
حادثاتی موت اور معذوری پر مالی مدد | Fisher Insurance Cover
گروپ بیمہ اسکیم حادثاتی موت کی صورت میں 5 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔ مستقل مکمل معذوری کی صورت میں بھی 5 لاکھ روپے کی کوریج ملے گی۔ مستقل جزوی معذوری کے لیے 2.5 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔ حکومت نے مختلف حادثاتی حالات کے لیے الگ مالی تحفظ رکھا ہے۔
اس اسکیم میں حادثاتی اسپتال داخلے کے لیے بھی طبی امداد شامل ہے۔ اہل ماہی گیروں کو 25,000 روپے تک طبی مدد مل سکے گی۔ یہ سہولت حادثے کے بعد پیدا ہونے والے طبی اخراجات کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ حکومت نے اس انتظام کے ذریعے خاندانوں پر اچانک مالی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اسکیم میں شامل ہونے کے لیے ماہی گیر کا رجسٹرڈ ہونا ضروری ہوگا۔ عمر کی حد بھی 18 سے 70 سال مقرر کی گئی ہے۔ محکمہ ماہی پروری اہل رجسٹرڈ ماہی گیروں کی کوریج یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اسی دوران محکمہ مسلسل بیمہ تحفظ برقرار رکھنے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
وزیر وکیتی سری ہری نے ماہی گیر برادری کی فلاح کو حکومت کی ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے سماجی تحفظ کو بھی حکومتی اقدامات کا اہم حصہ بتایا۔ ان کے مطابق حادثاتی موت یا مستقل معذوری خاندانوں کے لیے بڑا مالی مسئلہ بن سکتی ہے۔ یہ اسکیم ایسے مشکل حالات میں خاندانوں کو مالی سہارا دے گی۔
1 جون سے شروع ہوا بیمہ تحفظ | Fisher Insurance Cover
بیمہ پالیسی کی مدت 1 جون 2026 سے شروع ہوئی ہے۔ محکمہ ماہی پروری نے اہل ماہی گیروں کے لیے مسلسل کوریج کے اقدامات کیے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ رجسٹرڈ ماہی گیر بیمہ تحفظ سے محروم نہ رہیں۔ اس مقصد کے لیے محکمہ ضروری انتظامی کارروائی آگے بڑھا رہا ہے۔
حکومت کے مطابق ماہی گیر برادری کی آمدنی کئی خطرات سے متاثر ہو سکتی ہے۔ حادثات سے ماہی گیروں کی کام کرنے کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ ایسی صورتحال میں خاندانوں کو اضافی مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بیمہ اسکیم ان مشکلات کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
مزید برآں، حکومت نے ماہی گیر خاندانوں کے لیے مالی تحفظ بڑھانے پر زور دیا ہے۔ اسکیم حادثاتی موت کی صورت میں خاندان کو بڑی مالی مدد فراہم کرے گی۔ مستقل معذوری کی صورت میں بھی بیمہ رقم دستیاب ہوگی۔ یوں یہ منصوبہ ماہی گیروں کے سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
دوسری جانب حادثاتی اسپتال داخلے کے لیے 25,000 روپے تک کی طبی امداد بھی اہم ہے۔ اس سہولت سے حادثے کے بعد علاج کے اخراجات میں مدد مل سکتی ہے۔ حکومت نے اس فائدے کو بھی بیمہ پیکیج میں شامل کیا ہے۔ اس سے اسکیم کا دائرہ صرف موت یا معذوری تک محدود نہیں رہتا۔
حکومت کی جانب سے صفر پریمیم کا فیصلہ | Fisher Insurance Cover
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اہل ماہی گیروں کو پریمیم ادا نہیں کرنا ہوگا۔ ہر فرد کے لیے 79.96 روپے کا پریمیم حکومتیں مشترکہ طور پر برداشت کریں گی۔ مرکز 60 فیصد اور ریاست 40 فیصد حصہ ادا کرے گی۔ ریاستی حکومت اس مقصد کے لیے 21,34,79,673 روپے خرچ کرے گی۔
وزیر سری ہری نے کہا کہ حکومت ماہی گیر برادری کی سماجی سلامتی کو اعلیٰ ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے مالی مشکلات کے دوران خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق گروپ بیمہ حکومت کے فلاحی اقدامات کا اہم حصہ ہے۔ اس اسکیم سے مشکل حالات میں خاندانوں کو فوری مالی سہارا مل سکتا ہے۔
چنانچہ حکومت نے بیمہ تحفظ کو ماہی گیر فلاحی پالیسی سے جوڑا ہے۔ اس منصوبے میں بڑی تعداد میں رجسٹرڈ ماہی گیروں کو شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کا مقصد تلنگانہ بھر میں اہل افراد کو مسلسل تحفظ فراہم کرنا ہے۔ محکمہ ماہی پروری اس عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
ماہی گیر خاندانوں کے لیے وسیع سماجی تحفظ | Fisher Insurance Cover
حکومت نے مستقبل میں بھی ماہی گیروں کے لیے سماجی تحفظ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ وزیر سری ہری نے کہا کہ حکومت رجسٹرڈ ماہی گیروں اور ان کے خاندانوں کے تحفظ کے لیے کام کرے گی۔ ان کے مطابق مالی تحفظ ماہی گیر برادری کی فلاح کے لیے ضروری ہے۔
اس اسکیم سے 4,21,767 رجسٹرڈ ماہی گیر براہ راست فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ حادثاتی موت کی صورت میں 5 لاکھ روپے کی کوریج دستیاب ہوگی۔ مستقل مکمل معذوری پر بھی 5 لاکھ روپے ملیں گے۔ مستقل جزوی معذوری کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی رقم مقرر ہے۔
اس کے علاوہ حادثاتی اسپتال داخلے پر 25,000 روپے تک طبی امداد ملے گی۔ اہل افراد کو اس تحفظ کے لیے کوئی پریمیم ادا نہیں کرنا ہوگا۔ یوں حکومت نے بیمہ سہولت کو ماہی گیروں کے لیے مالی طور پر قابل رسائی بنایا ہے۔ یہ اقدام ان کے خاندانوں کو مشکل وقت میں اضافی تحفظ فراہم کر سکتا ہے۔
بالآخر حکومت کا مقصد رجسٹرڈ ماہی گیروں اور ان کے خاندانوں کو جامع سماجی تحفظ دینا ہے۔ بیمہ اسکیم اسی وسیع حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔ حکومت تلنگانہ بھر میں ماہی گیر برادری کے مالی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے پر کام جاری رکھے گی۔ اس اقدام سے حادثاتی حالات میں متاثرہ خاندانوں کو اہم مالی مدد ملنے کی توقع ہے۔
