نلگنڈہ دھان کے بجائے متبادل فصلوں پرزور | Nalgonda Crop Diversification
حیدرآباد:۔ سڑکوں اور عمارتوں کے وزیر کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے نلگنڈہ کے کسانوں کو اہم مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کسانوں سے دھان کی کاشت کم کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایل نینو کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ ناگرجنا ساگر میں پانی کی کم سطح بھی بڑا مسئلہ ہے۔
وزیر نے کہا کہ ناگرجنا ساگر کا موجودہ پانی پینے کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اوپری علاقوں سے تازہ پانی آنے کے امکانات کم ہیں۔ چنانچہ آبپاشی کے بجائے پینے کے پانی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات ہفتہ کو نلگنڈہ کلکٹریٹ میں کہی۔
ناگرجنا ساگر میں پانی کی سنگین صورتحال | Nalgonda Crop Diversification
کومٹ ریڈی نے ضلع آبپاشی مشاورتی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے افسران اور عوامی نمائندوں کو اہم ہدایات دیں۔ کومٹ ریڈی نے کسانوں کو کم پانی والی فصلوں کی طرف منتقل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں محتاط فصل منصوبہ بندی ضروری ہے۔
وزیر کے مطابق ناگرجنا ساگر ڈیڈ اسٹوریج سطح پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سری سیلم سے پانی ملنے کے باوجود مشکل برقرار رہے گی۔ ایسی صورت میں آبپاشی کے لیے پانی چھوڑنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم موجودہ پانی جون 2027 تک پینے کی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔
کومٹ ریڈی نے کہا کہ اے ایم آر پی میں بھی صرف نصف پانی موجود ہے۔ انہوں نے ضلع میں پیدا ہونے والی صورتحال کو غیر معمولی قرار دیا۔ انہوں نے افسران سے کسانوں کی مناسب رہنمائی کرنے کو کہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے گاؤں کی سطح پر فصل منصوبہ بندی پر زور دیا۔
وزیر نے ممکنہ سپر ایل نینو کے اثرات سے بھی خبردار کیا۔ ان کے مطابق جنوبی تلنگانہ میں بارش متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے کسانوں کو دھان کے بجائے کم پانی والی فصلیں اپنانا چاہئیں۔ انہوں نے خشک سالی برداشت کرنے والی فصلوں پر بھی توجہ دینے کو کہا۔
دھان سے متبادل فصلوں کی طرف منتقلی | Nalgonda Crop Diversification
ضلع میں پہلے ہی تقریباً 33,000 ایکڑ زمین پر فصل تبدیل ہوئی ہے۔ کسانوں نے اس رقبے میں دھان کے بجائے متبادل فصلیں اختیار کی ہیں۔ کومٹ ریڈی نے اس عمل کو مزید وسیع کرنے کا ہدف مقرر کیا۔ انہوں نے 1.5 لاکھ ایکڑ میں فصل تنوع کا ہدف دیا۔
انہوں نے سبزیوں کی کاشت کو فروغ دینے کی بھی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ باغبانی اور نامیاتی کاشت پر بھی زور دیا۔ وزیر نے ضلع کے لیے 5,000 اسپرنکلر یونٹس حاصل کرنے کا وعدہ کیا۔ ان اقدامات سے کم پانی میں پیداوار بڑھانے کی کوشش ہوگی۔
کومٹ ریڈی نے بار بار دھان اگانے کے نقصانات بھی بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ کھاد کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے زمین متاثر ہوسکتی ہے۔ اس سے مٹی کی زرخیزی بھی کم ہوسکتی ہے۔ لہٰذا فصلوں میں تنوع لانا کسانوں کے لیے اہم ہے۔
دوسری جانب ضلع میں تقریباً 9,000 ٹرانسفارمرز اوورلوڈ کا شکار ہیں۔ وزیر نے اس مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے بات کریں گے۔ مزید برآں وہ ضروری برقی آلات کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں گے۔
ایس ایل بی سی منصوبے پر کام جاری رکھنے کا فیصلہ | Nalgonda Crop Diversification
کومٹ ریڈی نے پانی کی قلت کے باوجود ایس ایل بی سی ٹنل کا کام جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومٹ اس منصوبے کو اگست 2028 تک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ وزیر کے مطابق وزیر اعلیٰ نے کام پر ضروری اخراجات کی ہدایت دی ہے۔ اس منصوبے سے آبپاشی کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایل بی سی سے آبپاشی میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ سہولت اس وقت بھی اہم ہوگی جب سری سیلم ڈیڈ اسٹوریج تک پہنچے گا۔ چنانچہ منصوبے کی تکمیل کو حکومٹ اہم سمجھ رہی ہے۔ وزیر نے افسران کو کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی۔
انہوں نے افسران سے دیہات کا دورہ کرنے کو بھی کہا۔ ان دوروں کے ذریعے کسانوں کو عملی رہنمائی دینے پر زور دیا گیا۔ مزید برآں ضلع انتظامیہ کو باقاعدگی سے آبپاشی مشاورتی اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ان اجلاسوں میں پانی اور فصلوں سے متعلق فیصلے کیے جائیں گے۔
بارش کے امکانات اور کسانوں کے لیے آخری موقع | Nalgonda Crop Diversification
ایم ایل سی شنکر نائک نے بھی ایل نینو کے ممکنہ اثرات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے آبپاشی کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے افسران اور عوامی نمائندوں سے فصل تنوع کو فروغ دینے کی اپیل کی۔ ان کے مطابق کسانوں تک بروقت معلومات پہنچانا ضروری ہے۔
ضلع کلکٹر بی چندر شیکھر نے بھی کم بارش پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے بڑے منصوبوں میں پانی کی سطح کم ہے۔ انتظامیہ نے اسی صورتحال کے پیش نظر مشاورتی بورڈ قائم کیا ہے۔ بورڈ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضروریات کا جائزہ لے گا۔
کلکٹر نے موسم سے متعلق تازہ معلومات کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق ستمبر میں سپر ایل نینو کے حالات برقرار رہ سکتے ہیں۔ شمالی تلنگانہ میں کہیں کہیں بارش ہونے کا امکان ہے۔ تاہم جنوبی تلنگانہ میں موسم زیادہ تر خشک رہنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے محکمہ زراعت اور باغبانی کے افسران کو اہم ہدایت دی۔ افسران کو براہ راست کھیتوں تک پہنچنے کے لیے کہا گیا۔ کسانوں کے پاس خشک فصلیں شروع کرنے کے لیے 15 اگست تک وقت ہے۔ لہٰذا انتظامیہ کو اس مدت میں کسانوں تک فوری طور پر پہنچنا ہوگا۔
