محمد علی شبیر کا اردو صحافیوں کو اہم مشورہ | Urdu Media Growth
حیدرآباد:۔ تلنگانہ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے اردو صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ہر بڑے سرکاری پروگرام میں شریک ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی بلا خوف سوال کریں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کریں۔
انہوں نے یہ بات تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن کی 10ویں سالگرہ اور سالانہ ایوارڈز 2026 تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب تلنگانہ میڈیا اکیڈمی، نامپلی میں منعقد ہوئی۔ مزید برآں، انہوں نے کہا کہ مضبوط پیشہ ورانہ معیار ہی اردو صحافت کو آگے لے جا سکتے ہیں۔
پیشہ ورانہ معیار بہتر بنانے کی اپیل | Urdu Media Growth
محمد علی شبیر نے کہا کہ اردو صحافی صرف اقلیتی یا مذہبی موضوعات تک محدود نہ رہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ حکمرانی، انتظامیہ، ترقی اور سیاست سے متعلق خبریں بھی نمایاں انداز میں رپورٹ کریں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ، وزراء، ضلع کلکٹروں اور سینئر افسران کی پریس کانفرنسوں میں اردو صحافیوں کی شرکت کم نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ضلعی ترقیاتی کمیٹی کے اجلاسوں اور دیگر اہم سرکاری پروگراموں میں بھی باقاعدہ شرکت کی اپیل کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کسی صحافی کو سرکاری تقریبات میں داخلے میں دشواری پیش آئے تو حکومت تعاون کرے گی۔ چنانچہ انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ آگے آئیں، حکام سے سوال کریں اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیں۔
اردو زبان کے تحفظ پر زور | Urdu Media Growth
محمد علی شبیر نے کہا کہ وہ اردو، تلگو اور انگریزی تینوں زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے ہمیشہ اردو کے فروغ کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد اردو کی اہمیت میں کمی آئی، لیکن بعد میں کانگریس حکومتوں نے اسے دوسری زبان کا درجہ دیا اور سرکاری سطح پر اس کی حیثیت کو مضبوط بنایا۔
انہوں نے کہا کہ صرف سرکاری منظوری کافی نہیں ہوتی۔ لہٰذا زبان کے عملی نفاذ کے لیے مسلسل کوشش ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی مداخلت کے بعد کاسو برہمانند ریڈی نیشنل پارک میں اردو سائن بورڈ نصب کیے گئے۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی سرکاری دفتر میں اردو کو نظر انداز کیا جائے تو پہلے یادداشت پیش کی جائے۔ بعد ازاں ضرورت پڑنے پر پرامن احتجاج یا ریلے بھوک ہڑتال بھی کی جا سکتی ہے۔
ہر سطح پر حکومت سے سوال کریں | Urdu Media Growth
محمد علی شبیر نے فیملی رجسٹر سرٹیفکیٹ کے پس منظر کی بھی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی رہنماؤں نے کرناٹک کے پرمننٹ ریذیڈنٹ سرٹیفکیٹ کا ماڈل پیش کیا تھا۔ یوں وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس تجویز کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ تعلیمی اور سرکاری ریکارڈ میں نام ایک جیسے رکھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ انگریزی میڈیم تعلیم کو ترجیح دینے سے اردو بطور مضمون نظر انداز ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ رجحان بھی زبان کی کمزوری کی ایک وجہ ہے۔
آخر میں محمد علی شبیر نے شدید بارش کے باوجود خدمات انجام دینے والے صحافیوں اور فوٹوگرافروں کی تعریف کی۔ انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ ہر سطح پر حکومت سے سوال کریں، اپنے معیار کو بہتر بنائیں اور اردو صحافت کو ہر بڑے عوامی پلیٹ فارم پر نمایاں رکھیں۔
