حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے مجوزہ پرانہیتا بیراج منصوبے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی حکومت نے ریاستی درخواست پر سنٹرل واٹر کمیشن سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ تاہم منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے مہاراشٹر حکومت کی منظوری لازمی ہوگی۔
ریاستی حکومت نے منصوبے کے لیے ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں وردھا اور وین گنگا دریاؤں کے سنگم کو بیراج کے لیے موزوں مقام قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ حکام منصوبے کے تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے خط کے بعد یہ معاملہ سنٹرل واٹر کمیشن کے سپرد کیا۔ چنانچہ اگر کمیشن مثبت رپورٹ پیش کرتا ہے اور مہاراشٹر منظوری دیتا ہے تو ریاست منصوبے پر عملی پیش رفت کر سکتی ہے۔
پرانے مطالعات نے منصوبے کی بنیاد رکھی | Pranahita Barrage
غیر منقسم آندھرا پردیش حکومت نے 2008 میں وردھا اور وینگنگا کے سنگم پر بیراج کی تعمیر سے متعلق رپورٹ تیار کی تھی۔ تاہم مختلف انتظامی اور تکنیکی مسائل کے باعث یہ منصوبہ آگے نہیں بڑھ سکا۔
تلنگانہ کے قیام کے بعد سابق بھارت راشٹرا سمیتی حکومت نے بھی اس منصوبے کا جائزہ لیا۔ بعد ازاں اس نے اپنی توجہ کالیشورم لفٹ اریگیشن منصوبے پر مرکوز کر دی۔ یوں پرانہیتا بیراج کا منصوبہ ایک بار پھر پس منظر میں چلا گیا۔
مہاراشٹر کی منظوری اہم شرط | Pranahita Barrage
موجودہ کانگریس حکومت نے بعد ازاں تمّڈی ہیٹی کے مقام پر بیراج تعمیر کرنے کے امکان کا جائزہ لیا۔ مزید برآں ریاستی وزراء نے مجوزہ مقام کا دورہ بھی کیا۔ اس دوران حکومت نے منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ مرکز کو پیش کر دی۔
ریاستی حکومت نے واضح کیا کہ منصوبہ صرف اسی صورت میں آگے بڑھ سکتا ہے جب مہاراشٹر حکومت باضابطہ منظوری دے۔ لہٰذا اب سنٹرل واٹر کمیشن کی رپورٹ اور مہاراشٹر کے فیصلے کو اس منصوبے کی آئندہ پیش رفت کے لیے کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
