تلنگانہ ہائی کورٹ کی ہائیڈرا پر سخت برہمی | Hydra Verdict
حیدرآباد:۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ہائیڈرا کمشنر سے متعلق پہلے سنائے گئے فیصلے کو مکمل طور پر درست قرار دیا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ نجی افراد نہیں بلکہ سرکاری حکام عدالت کو گمراہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ جسٹس این وی سراون کمار نے کہا کہ عدالتیں صرف اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں کیونکہ متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر رہے۔
عدالت نے کہا کہ سرکاری افسران بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ مزید برآں انہوں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش بھی کی۔ جج نے ریمارکس دیے کہ یہ طرز عمل انتظامی ناکامی کی واضح مثال ہے۔
انہدامی کارروائی پر سوالات | Hydra Verdict
یہ ریمارکس پیماسانی سدھرانی کی درخواست کی سماعت کے دوران دیے گئے۔ درخواست گزار نے رنگا ریڈی ضلع کے سرلنگم پلی منڈل کے کونڈاپور میں سروے نمبر 60 کی 350 مربع گز پٹہ زمین پر موجود گارڈ اور چوکیدار کے کمرے کے انہدام کو چیلنج کیا۔
درخواست گزار کے وکیل ایس سری دھر نے مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں سرلنگم پلی تحصیلدار نے ضلع کلکٹر کو سروے نمبر 59 کی سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے خط لکھا تھا۔ بعد ازاں ضلع کلکٹر نے پولیس سے مدد طلب کی اور اس کی نقل ہائیڈرا کو بھی بھیجی۔ تاہم ہائیڈرا حکام نے 1 نومبر کو سروے نمبر 60 میں موجود ڈھانچہ بغیر کسی نوٹس کے منہدم کر دیا۔
وکیل نے مزید بتایا کہ ہائی کورٹ 2022 میں فیصلہ دے چکی ہے کہ سروے نمبر 59 سرکاری زمین ہے جبکہ سروے نمبر 60 پٹہ زمین ہے۔ اس کے باوجود متعلقہ حکام نے عدالتی فیصلے کو نظر انداز کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لازمی قانونی طریقہ کار بھی اختیار نہیں کیا۔
عدالتی احکامات پر عمل درآمد لازمی | Hydra Verdict
جسٹس این وی سراون کمار نے سوال کیا کہ تحصیلدار نے نجی زمین سے متعلق ہائیڈرا کو معلومات کیسے فراہم کیں۔ اسی دوران عدالت کے حکم پر تحصیلدار ذاتی طور پر سماعت میں پیش ہوئے۔
سرکاری وکیل نے کہا کہ تحصیلدار نے صرف سرکاری زمین کے تحفظ کے لیے معلومات فراہم کی تھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تحصیلدار نے کسی بھی ڈھانچے کو منہدم کرنے کی ہدایت نہیں دی۔
دوسری جانب ہائیڈرا کے وکیل سمیر احمد نے مؤقف اختیار کیا کہ حکام کو 2022 کے عدالتی فیصلے کی معلومات نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی محکمہ ریونیو سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر کی گئی۔
تاہم عدالت نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات سے لاعلمی کسی بھی غیر قانونی انہدام کا جواز نہیں بن سکتی۔ لہٰذا حکام پر لازم ہے کہ پہلے نوٹس جاری کریں، متاثرہ فریق کو جواب دینے کا موقع دیں اور پھر قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
سرلنگم پلی کے تحصیلدار کو آئندہ احکامات تک ہر سماعت میں ذاتی طور پر حاضر رہنے کا بھی حکم| Hydra Verdict
جسٹس سراون کمار نے یہ بھی دریافت کیا کہ متعلقہ حکام نے کس بنیاد پر درخواست گزار کی زمین کو سرکاری زمین قرار دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ آیا کوئی باضابطہ سروے کیا گیا تھا، نوٹس جاری کیے گئے تھے یا نہیں، اور صرف 3 دن کے اندر انہدام کیوں کیا گیا۔
بعد ازاں عدالت نے یہ بھی جاننا چاہا کہ آیا ضلع کلکٹر نے براہ راست انہدام کا حکم دیا تھا یا کسی بیرونی دباؤ کے تحت کارروائی کی گئی۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ہائیڈرا ریکارڈ کی مکمل جانچ اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر انہدامی کارروائیاں کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
چنانچہ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ہر اقدام کی زمانی ترتیب کے ساتھ تفصیلی جواب داخل کریں۔ یوں مقدمے کی مزید سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے سرلنگم پلی کے تحصیلدار کو آئندہ احکامات تک ہر سماعت میں ذاتی طور پر حاضر رہنے کا بھی حکم دیا۔
