مودومل اسٹینڈنگ اسٹونز پارک کی ترقی کا آغاز | Heritage Tourism
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کے وزیر کھیل، ڈیری ڈیولپمنٹ اور محکمہ حیوانات واکیٹی سری ہری نے نارائن پیٹ ضلع کے مکتھل اسمبلی حلقہ کے مودومل گاؤں میں مودومل اسٹینڈنگ اسٹونز پارک کی ترقیاتی منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
وزیر نے کہا کہ ریاستی حکومت ثقافتی ورثے کے تحفظ اور سیاحت کے فروغ کو ترجیح دے رہی ہے۔ لہٰذا مودومل اسٹینڈنگ اسٹونز پارک کی ترقی کے لیے مختلف ترقیاتی کام شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے پارک میں آنے والے سیاحوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ مزید برآں اس تاریخی مقام کی کشش میں بھی اضافہ ہوگا۔
واکیٹی سری ہری نے کہا کہ ترقیاتی منصوبے کے بعد پارک کو مزید شہرت حاصل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں سیاحوں کی تعداد بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
یونیسکو کی مستقل منظوری کے لیے کوششیں | Heritage Tourism
دکن ہیریٹیج اکیڈمی ٹرسٹ کے چیئرمین ویدا کمار نے کہا کہ مودومل اسٹینڈنگ اسٹونز کو یونیسکو کی عالمی ورثہ عارضی فہرست میں شامل کیا جانا تلنگانہ کے لیے باعث فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت اس مقام کو یونیسکو کی مستقل عالمی ورثہ فہرست میں شامل کرانے کے لیے سرگرم ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ ان تاریخی پتھروں کا تحفظ نہایت ضروری ہے۔
ویدا کمار نے بتایا کہ سابق ضلع کلکٹروں نے بھی اس تاریخی مقام کے تحفظ کے لیے کئی اقدامات کیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یونیسکو نے مستقل منظوری کے لیے بعض سفارشات پیش کی ہیں۔ لہٰذا متعلقہ حکام کو ان سفارشات پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر واکیٹی سری ہری کے ذریعے تجاویز پہلے ہی مرکزی حکومت کو بھیجی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت سے مطلوبہ بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
سیاحت اور تاریخی شعور کو فروغ دینے کی تجاویز | Heritage Tourism
ویدا کمار نے ضلع کے 400 اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کو خصوصی تربیت دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کے مطابق اس اقدام سے تقریباً 60,000 طلبہ کو مودومل اسٹینڈنگ اسٹونز پارک کا دورہ کرایا جا سکے گا۔
انہوں نے 20 سیاحتی رہنماؤں کی تقرری کی بھی سفارش کی۔ اسی دوران انہوں نے ایک جامع سیاحتی نقشہ تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ مزید برآں قریبی دیہات میں تاریخی مقام سے متعلق بیداری مہم چلانے کی بھی اپیل کی۔
ویدا کمار نے کہا کہ یہ اسٹینڈنگ اسٹونز تقریباً 3,000 سال قدیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ قدیم انسانوں کے فلکیاتی علم اور ستاروں کی ترتیب سے متعلق معلومات کی عکاسی کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حکومت اور عوام سے اپیل کی کہ اس تاریخی ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
