Telangana Drought Plan
حیدرآباد:۔ تلنگانہ کابینہ نے ریاست میں بارش کی شدید کمی کے پیش نظر خشک سالی سے نمٹنے کا جامع منصوبہ منظور کر لیا۔ کابینہ نے مرکز سے فوری مالی امداد فراہم کرنے کی بھی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے علاوہ نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے مرکزی ٹیم بھیجنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی کی صدارت میں کابینہ کا 36 واں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایل نینو کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزراء نے ریاست میں خشک سالی جیسے حالات پر گہری تشویش ظاہر کی۔
کابینہ نے فیصلہ کیا کہ مرکزی حکومت کو تفصیلی رپورٹ بھیجی جائے گی۔ اس رپورٹ میں بارش کی کمی اور نقصانات کی مکمل تفصیلات شامل ہوں گی۔ چنانچہ متاثرہ اضلاع کے لیے ہنگامی مالی مدد بھی طلب کی جائے گی۔
کابینہ کے مطابق اب تک ریاست کے کسی بھی حصے میں معمول کے مطابق بارش نہیں ہوئی۔ کئی علاقوں میں صرف 30 سے 35 فیصد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ لہٰذا تمام محکموں کو پیشگی منصوبہ بندی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔
حکومت نے متعلقہ حکام کو پینے کے پانی، آبپاشی اور بجلی کی فراہمی متاثر نہ ہونے دینے کی ہدایت بھی دی۔ اس کے علاوہ تمام محکموں کو زمینی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کا حکم دیا گیا۔
پینے کے پانی اور کسانوں کو ترجیح | Telangana Drought Plan
کابینہ نے پینے کے پانی کی فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیا۔ تمام ضلع کلکٹروں کو ہر وقت مستعد رہنے کی ہدایت دی گئی۔ انہیں پانی کی قلت کی شکایات پر فوری کارروائی کرنے کا بھی حکم دیا گیا۔
کلکٹروں کو مقامی آبی وسائل کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔ مزید برآں ہنگامی پانی کی فراہمی کے منصوبے تیار کرنے کو کہا گیا۔ ضرورت پڑنے پر آبی ذخائر کا پانی صرف پینے کے لیے محفوظ رکھا جائے گا۔
کابینہ نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی۔ وزراء نے پانی، آبپاشی اور بجلی کے شعبوں میں ممکنہ اقدامات پر تفصیلی غور کیا۔ یوں عوام کو مشکلات سے بچانے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔
حکومت نے کسانوں سے کم پانی استعمال کرنے والی فصلیں کاشت کرنے کی اپیل کی۔ انہیں موجودہ موسمی حالات کے مطابق فصلوں کے انتخاب کا مشورہ بھی دیا گیا۔ اس کے علاوہ ریاست بھر میں آگاہی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
20 تاریخ کو تمام اضلاع میں خصوصی اجلاس منعقد ہوں گے۔ ہر سابق ضلع کے انچارج وزیر ایک سینئر آئی اے ایس افسر کے ساتھ اجلاس کی صدارت کریں گے۔ ان اجلاسوں میں عوامی نمائندے، محکمہ زراعت کے افسران، ماہرین اور سائنس دان شریک ہوں گے۔
ہر ضلع کی الگ رپورٹ تیار کی جائے گی۔ ان رپورٹوں میں بارش کی کمی، زرعی نقصانات اور متوقع خسارے کا تخمینہ شامل ہوگا۔ بعد ازاں یہی رپورٹ مرکز کو بھیجی جائے گی۔
دھرانی پورٹل کی جانچ اور قانونی فیصلے | Telangana Drought Plan
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پرجا بھون میں کسانوں کے لیے ٹول فری ہیلپ لائن قائم کی گئی ہے۔ محکمہ زراعت اس سروس کو چلائے گا۔ ہیلپ لائن روزانہ صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک فعال رہے گی۔
کسان اور شہری 1-800-123-7157 پر رابطہ کر سکیں گے۔ حکام شکایات وصول کریں گے اور ضروری رہنمائی فراہم کریں گے۔ مزید برآں فصلوں، پانی کے استعمال اور مقامی زرعی صورتحال سے متعلق معلومات بھی دی جائیں گی۔
کابینہ نے ریاستی پلاننگ بورڈ کو ایل نینو کے زرعی اثرات پر خصوصی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ نائب چیئرمین جی چنا ریڈی اس عمل کی نگرانی کریں گے۔ زرعی ماہرین اور سائنس دان بھی اس مطالعے میں حصہ لیں گے۔
دوسری جانب کابینہ نے دھرانی پورٹل سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی جامع جانچ کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی منظوری دی گئی۔ یہ ٹیم زمین کے ریکارڈ، رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی سے متعلق تمام معاملات کا جائزہ لے گی۔
مشتبہ لین دین کی الگ سے جانچ | Telangana Drought Plan
جانچ میں دھرانی پورٹل کے ٹینڈر عمل اور بعد کے تمام معاملات شامل ہوں گے۔ حکومت نے یہ پورٹل 29 اکتوبر 2020 کو متعارف کرایا تھا۔ لہٰذا اسی تاریخ سے ہونے والے تمام لین دین کی جانچ کی جائے گی۔
خصوصی تحقیقاتی ٹیم زرعی زمین، سرکاری زمین اور اسائنڈ زمین سے متعلق ریکارڈ بھی کھنگالے گی۔ اس کے علاوہ مشتبہ لین دین کی الگ سے جانچ کی جائے گی۔
کابینہ نے تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 میں ترمیم کی بھی منظوری دی۔ اس ترمیم کے بعد خواجہ سرا برادری کے افراد میونسپل کارپوریشنوں میں شریک رکن بن سکیں گے۔
اسی دوران تلنگانہ پنچایت راج ایکٹ 2018 میں بھی ترمیم کی منظوری دی گئی۔ اس کے تحت گرام پنچایتیں اپنے فنڈز قومی بینکوں، کوآپریٹو بینکوں یا ڈاک خانوں میں جمع کرا سکیں گی۔
اجلاس کے بعد وزراء پونگولیٹی سرینواس ریڈی، جوپلی کرشنا راؤ، پونم پربھاکر اور اڈلوری لکشمن کمار نے میڈیا کو فیصلوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خشک سالی سے نمٹنے کے لیے تمام محکموں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھے گی۔ آخر میں کابینہ نے مرکز کو خشک سالی کی رپورٹ فوری بھیجنے اور مالی و تکنیکی تعاون حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
