حیدرآباد:۔ بی آر ایس کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی گداری کشور کمار نے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی پر بھو بھارتی پورٹل سے متعلق نئے الزامات عائد کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت میں اراضی منظوریوں کے عمل میں بے ضابطگیاں ہو رہی ہیں۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے ان الزامات پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔
تلنگانہ بھون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گداری کشور کمار نے الزام لگایا کہ حکومتی نظام میں بدعنوانی پھیل چکی ہے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا وزیر اعلیٰ حکومت چلا رہے ہیں یا سرکس۔ تاہم انہوں نے اپنے بیانات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
دھرانی سے بھو بھارتی تک تبدیلی | Bhu Bharati Portal
سابق رکن اسمبلی نے کہا کہ سابق بی آر ایس حکومت نے دھرانی پورٹل اراضی مالکان کے حقوق کے تحفظ اور غیر قانونی لین دین روکنے کے لیے متعارف کرایا تھا۔ ان کے مطابق دھرانی کی جگہ بھو بھارتی پورٹل لانے کے بعد نئی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ چنانچہ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کے ذمہ دار افراد کی نشاندہی کی جائے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ تقریباً 4,500 درخواستوں کی منظوری عوامی معلومات کے بغیر دی گئی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سدی پیٹ ضلع کے کوکنور پلی میں 80 ناموں کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے الزام عائد کیا کہ رنگا ریڈی ضلع میں بعض اراضی تبدیلی کی منظوری درخواست موصول ہوئے بغیر دی گئی۔ انہوں نے ان منظوریوں کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا۔
مزید الزامات اور حکومتی مؤقف کا انتظار | Bhu Bharati Portal
گداری کشور کمار نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 1 کروڑ ایکڑ اراضی کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رنگا ریڈی ضلع کی نجی اراضیات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اراضیوں سے متعلق مبینہ سودے کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض سرکاری ریکارڈ مبینہ طور پر کمیشن لے کر تبدیل کیے گئے۔ مزید برآں انہوں نے وزیر مالیات و محصولات پونگولیٹی سرینواس ریڈی سے متعلق بھی سیاسی دعویٰ کیا، تاہم اس کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ آخر میں انہوں نے وزیر اعلیٰ کے اہل خانہ سے متعلق بھی الزامات لگائے، لیکن ان دعوؤں کے حق میں بھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ ان الزامات پر حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
