Waqf Transparency
حیدرآباد:۔ تلنگانہ وقف بورڈ نے تقریباً 9 سال بعد ریکارڈ روم کی چابیاں دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیں۔ بورڈ کے چیئرمین عظمت اللہ حسینی نے جمعرات کو مسلم تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران اس پیش رفت کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ روم اس عرصے میں محکمہ مال کے کنٹرول میں رہا۔
یہ اعلان تحریک مسلم شبان کے صدر محمد مشتاق ملک کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کیا گیا۔ اجلاس میں وقف جائیدادوں اور ان کے انتظام سے متعلق مختلف معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔ تاہم تمام شرکا نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔
شفاف انتظام کی ضرورت | Waqf Transparency
محمد مشتاق ملک نے کہا کہ ریکارڈ روم کی واپسی سے وقف جائیدادوں کے انتظام میں شفافیت اور جوابدہی کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک مسلم شبان اور دیگر مسلم تنظیمیں طویل عرصے سے ریکارڈ روم دوبارہ وقف بورڈ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ مزید برآں انہوں نے بورڈ سے سالانہ آمدنی، اخراجات اور فلاحی منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے کی اپیل کی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وقف فنڈز صرف غریب اور مستحق افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کیے جائیں۔ لہٰذا بورڈ کو مالی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کرنی چاہیے تاکہ عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو۔
وقف جائیدادوں کے تحفظ کے مطالبات | Waqf Transparency
وفد نے درگاہ حضرت یوسفین میں مناسب بیت الخلا اور وضو خانے کی تعمیر کا مطالبہ بھی پیش کیا۔
اس کے علاوہ درگاہ جہانگیر پیراں کے قریب قائم کچرا ڈمپنگ یارڈ کو ہٹانے یا دوسری جگہ منتقل کرنے کی درخواست کی گئی تاکہ زائرین کو بہتر سہولت میسر آئے۔اسی دوران وفد نے رائے درگ نظامیہ وقف اراضی کو تجاوزات سے محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے پر زور دیا۔
چنانچہ انہوں نے وقف اثاثوں کے تحفظ کو اولین ترجیح قرار دیا۔
وفد میں سابق اقلیتی کمیشن رکن سید طارق قادری، سابق چیئرمین اردو اکیڈمی رحیم اللہ خان نیازی، کانگریس کے مجیب اللہ شریف، پروفیسر انور خان، ایم بی ٹی کے جنرل سیکریٹری مصطفیٰ محمود اور دیگر مسلم تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔
بعد ازاں وفد نے امید ظاہر کی کہ تلنگانہ وقف بورڈ پیش کیے گئے تمام مطالبات پر فوری کارروائی کرے گا۔ یوں وقف اداروں اور جائیدادوں کا انتظام مزید شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنایا جا سکے گا۔
