Land Protest
حیدرآباد:۔ بوڈاُپل میں زمین سے متعلق احتجاج کے دوران بدھ کو کشیدگی پیدا ہو گئی۔ پولیس نے تلنگانہ رکشنا سینا (ٹی آرایس) کی سربراہ کلواکنٹلہ کویتا کو حراست میں لے لیا۔ سینکڑوں کارکنوں اور تلنگانہ تحریک کے سرگرم کارکنوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔ احتجاج میں کانگریس کے انتخابی وعدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
مظاہرین نے تلنگانہ تحریک کے کارکنوں کو 250 مربع گز زمین دینے کا مطالبہ کیا۔ بعد ازاں پولیس نے کلواکنٹلہ کویتا، پارٹی رہنماؤں، کارکنوں اور دیگر مظاہرین کو بولارم پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا۔
پولیس کارروائی پر حکومت کو تنقید | Land Protest
بولارم پولیس اسٹیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کلواکنٹلہ کویتا نے کانگریس حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس نے بلا امتیاز لاٹھی چارج کیا۔ ان کے مطابق متعدد خواتین اور کارکن زخمی ہوئے۔ تاہم انہوں نے خواتین مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا۔
کلواکنٹلہ کویتا نے کہا کہ مظاہرین نے صرف ایک مطالبہ پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق کانگریس نے انتخابی مہم کے دوران تلنگانہ تحریک کے کارکنوں کو 250 مربع گز زمین دینے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا مطالبہ شامل نہیں تھا۔
تحریک جاری رکھنے کا اعلان | Land Protest
کلواکنٹلہ کویتا نے سوال کیا کہ انتخابی وعدے پورے کرنے کا مطالبہ کرنے والوں پر حملہ کیا جانا کیا جمہوری طرز حکومت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ تلنگانہ رکشنا سینا حکومت کو ہر وعدہ یاد دلاتی رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک تمام وعدے پورے نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔
ఉద్యమకారుల రక్తాన్ని కళ్లజూసిన కాంగ్రెస్ ప్రభుత్వానికి కౌంట్ డౌన్ స్టార్ట్ అయ్యింది pic.twitter.com/DvjiONX4vn
— Kavitha Kalvakuntla (@RaoKavitha) July 2, 2026
