Karimnagar BRS Push
حیدرآباد ۔ بھارت راشٹرا سمیتی کے ورکنگ پریزیڈنٹ کے ٹی راما راو نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ پارٹی کریم نگر ضلع میں مضبوط واپسی کے لیے تیار ہے اور رہنماؤں کو ہدایت دی کہ وہ کانگریس حکومت کے خلاف اپنی سیاسی مہم مزید تیز کریں۔ انہوں نے یہ بات متحدہ کریم نگر ضلع کے ارکان اسمبلی اور سابق ارکان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو حیدرآباد میں سابق وزیر اور کریم نگر کے رکن اسمبلی گنگولا کملاکر کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا۔
اجلاس میں پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں، موجودہ سیاسی حالات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ کے ٹی راما راو نے دعویٰ کیا کہ کریم نگر طویل عرصے تک بی آر ایس کا مضبوط گڑھ رہا ہے اور گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بعض نشستوں پر پارٹی کی شکست کی وجہ کانگریس کے وہ وعدے تھے جنہیں انہوں نے گمراہ کن قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اقتدار کے 2.5 سال بعد عوام ایک بار پھر سابق وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر راو اور بی آر ایس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی ناراضی اور زمینی سطح پر بدلتے سیاسی رجحانات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ بی آر ایس دوبارہ خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
تنظیمی جائزہ، سروے دعوے اور حلقہ وار فیڈبیک | Karimnagar BRS Push
کے ٹی راما راو نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندرونی سروے کے مطابق جب بھی انتخابات ہوں گے، بی آر ایس کریم نگر ضلع میں مضبوط کارکردگی دکھانے کی پوزیشن میں ہوگی۔ اگرچہ انہوں نے سروے کی تفصیلات عوامی طور پر بیان نہیں کیں، تاہم ان کے اس دعوے سے واضح تھا کہ پارٹی اپنی تنظیمی تیاریوں کو انتخابی امکانات کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔
اجلاس کے دوران انہوں نے موجودہ اور سابق ارکان اسمبلی سے حلقہ وار فیڈبیک بھی طلب کیا۔ اس مشق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ مختلف حلقوں میں پارٹی کی موجودہ صورت حال کیا ہے، مقامی سطح پر کانگریس کے خلاف کس نوعیت کا ردعمل پایا جا رہا ہے اور بی آر ایس کے لیے کن علاقوں میں فوری تنظیمی توجہ درکار ہے۔
اسی کے ساتھ کے ٹی راما راو نے پارٹی کی رکنیت سازی مہم اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی سے متعلق سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تنظیمی سرگرمیوں کو محض رسمی سطح پر نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ووٹر رابطے، کارکنوں کی متحرک شمولیت اور مقامی سیاسی موجودگی کے ساتھ جوڑا جائے۔
بوتھ سطح کی مضبوطی اور کانگریس حکومت پر حملہ | Karimnagar BRS Push
کے ٹی راما راو نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت دی کہ بوتھ سطح پر تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جائے اور نچلی سطح کے کارکنوں کے ساتھ باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں۔ ان کے مطابق انتخابی کامیابی کا راستہ اب بھی مقامی نیٹ ورک، فعال کارکنوں اور بوتھ سطح پر مؤثر رابطے سے گزرتا ہے، اس لیے پارٹی کو اسی سطح پر اپنی موجودگی کو دوبارہ مستحکم کرنا ہوگا۔
انہوں نے رہنماؤں سے کہا کہ کانگریس حکومت کی مبینہ بدعنوانی اور کسان مخالف پالیسیوں کو عوام کے درمیان بھرپور انداز میں اٹھایا جائے۔ ان کے مطابق بی آر ایس کو صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ مقامی مسائل، سرکاری ناکامیوں اور سیاسی تضادات کو مسلسل عوامی بحث کا حصہ بنانا چاہیے۔
کے ٹی راما راو نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سنگرینی کے مفادات کے خلاف ایک ساتھ کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے کہا کہ ان الزامات کو کارکنوں اور عوام کے سامنے منظم انداز میں رکھا جائے تاکہ بی آر ایس اپنے سیاسی بیانیے کو مزدور، کسان اور علاقائی مفادات کے دفاع سے جوڑ سکے۔
کالیشورم، کسانوں کا پانی اور سوشل میڈیا حکمت عملی | Karimnagar BRS Push
کالیشورم پروجیکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کے ٹی راما راو نے دعویٰ کیا کہ معمول سے کم بارش کے باوجود منصوبے میں مناسب مقدار میں پانی موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس حکومت کسانوں کے لیے نرسری مرحلے میں پانی اٹھا کر فراہم کرنے میں ناکام رہی، جسے انہوں نے کسانوں کے مفاد سے غفلت قرار دیا۔
انہوں نے پارٹی رہنماؤں سے یہ بھی کہا کہ مقامی سطح پر کانگریس رہنماؤں کی مبینہ بدعنوانی کو بے نقاب کیا جائے اور ہر حلقے میں ایسی شکایات یا معاملات کو سیاسی مہم کا حصہ بنایا جائے۔ ان کے مطابق مقامی نوعیت کے مسائل عوامی رائے پر زیادہ براہ راست اثر ڈالتے ہیں، اس لیے ان کی مسلسل نشاندہی پارٹی کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
مزید برآں کے ٹی راما راو نے بی آر ایس رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ عوام سے رابطے اور پارٹی کی رسائی بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا کا زیادہ مؤثر استعمال کریں۔ ان کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول میں زمینی تنظیم کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی رائے سازی اور بیانیہ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے پارٹی کو دونوں محاذوں پر یکساں طور پر متحرک رہنا ہوگا۔
یوں کریم نگر سے متعلق یہ اجلاس محض ایک معمول کی تنظیمی نشست نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے بی آر ایس نے اپنے سیاسی احیا، کانگریس کے خلاف حملہ آور بیانیے، بوتھ سطح کی تنظیمی مضبوطی اور ڈیجیٹل مہم کو ایک مشترکہ حکمت عملی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پارٹی کے دعوے زمینی سیاست اور آئندہ انتخابی منظرنامے میں کس حد تک عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔
