Tungabhadra Crest Gates
حیدرآباد ۔ تُنگبھدرا ڈیم کی جدیدکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب جمعرات کو نئے کریسٹ گیٹس کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس تقریب میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور کرناٹک کی قیادت ایک ساتھ شریک ہوئی، جسے نہ صرف ڈیم کی تعمیراتی بہتری بلکہ بین الریاستی تعاون کی علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
اس افتتاحی تقریب میں تلنگانہ کے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی، آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو، کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور مرکزی وزیر جل شکتی سی آر پاٹل نے شرکت کی۔ یہ تقریب کرناٹک کے ہوسپیٹے کے قریب واقع تُنگبھدرا ڈیم پر منعقد ہوئی، جہاں منصوبے کے مختلف مراحل اور اس کی جدیدکاری سے متعلق سرگرمیوں کو نمایاں طور پر پیش کیا گیا۔
تقریب سے قبل چاروں قائدین ہوسپیٹے کے آئی آر بی گیسٹ ہاؤس میں ملے، جہاں ڈیم اور متعلقہ امور پر غیر رسمی تبادلہ خیال بھی کیا گیا۔ اس ملاقات کو افتتاحی تقریب سے پہلے ایک اہم سیاسی اور انتظامی رابطے کے طور پر دیکھا گیا، کیونکہ تُنگبھدرا منصوبہ تین ریاستوں کے مفادات سے جڑا ہوا آبی ڈھانچہ ہے۔
نئے گیٹس کا مشترکہ افتتاح اور یادگاری مرحلہ | Tungabhadra Crest Gates
بعد ازاں معززین ڈیم کے مقام پر پہنچے اور مشترکہ طور پر کریسٹ گیٹس نمبر 17، 18، 19 اور 20 کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح 33 نئے کریسٹ گیٹس کی تنصیب کے بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے ڈیم کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
قائدین نے اس مرحلے کی تکمیل کی یاد میں ایک یادگاری تختی کی بھی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پر منصوبے سے وابستہ سینئر افسران، انجینئرنگ عملہ اور دیگر نمائندے بھی موجود تھے، جس سے تقریب کی انتظامی اور تکنیکی اہمیت مزید نمایاں ہوئی۔
یہ مرحلہ اس اعتبار سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ تُنگبھدرا ڈیم جنوبی ہند کے اہم آبی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے، اور اس میں ہونے والی کسی بھی تکنیکی بہتری کا اثر پانی کے ذخیرے، ترسیل اور مستقبل کی انتظامی منصوبہ بندی پر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے نئے کریسٹ گیٹس کی تنصیب کو محض ایک تعمیراتی اپ گریڈ کے بجائے ایک بڑے آبی انفرااسٹرکچر اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
3 ریاستوں کی ہم آہنگی کا علامتی منظر | Tungabhadra Crest Gates
افتتاح کے بعد ڈی کے شیوکمار، اے ریونت ریڈی، این چندرابابو نائیڈو اور مرکزی وزیر سی آر پاٹل نے ایک ساتھ موجود مجمع کا خیرمقدم کیا۔ اس مشترکہ موجودگی نے تقریب کو ایک رسمی سرکاری پروگرام سے آگے بڑھا کر بین الریاستی تعاون کی علامت میں تبدیل کر دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دریا کے پانی، ڈیموں اور آبی ڈھانچوں سے متعلق معاملات اکثر کئی ریاستوں کے مفادات سے جڑے ہوتے ہیں۔
قائدین نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر گروپ فوٹو بھی بنوایا، جسے تُنگبھدرا منصوبے پر ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی اور اشتراک کا نمایاں اشارہ سمجھا گیا۔ اگرچہ تقریب کا مرکز نئے گیٹس کا افتتاح تھا، تاہم اس دوران سامنے آنے والی سیاسی اور انتظامی یکجہتی نے بھی خاص توجہ حاصل کی۔
تقریب کے اختتام پر قائدین نے منصوبے کے مقام پر موجود افسران سے بات چیت کی اور کام کی پیش رفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ یوں یہ تقریب تُنگبھدرا ڈیم کی جدیدکاری کے ایک اہم مرحلے کی تکمیل کے ساتھ ساتھ تین ریاستوں اور مرکز کے درمیان ایک مشترکہ آبی وژن کے اظہار کے طور پر بھی سامنے آئی۔
