Paper Leak Crisis
حیدرآباد ۔ تلنگانہ یوتھ کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری محمد الماس خان نے ملک بھر میں بار بار ہونے والے امتحانی پیپر لیکس کے معاملے پر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی نظام کی ناکامی نے کروڑوں طلبہ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امتحانات کے انعقاد اور ان کی شفافیت پر اٹھنے والے مسلسل سوالات نے نوجوانوں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
محمد الماس خان نے کہا کہ پورے ملک میں 90 سے زائد امتحانی پیپر لیکس نے ان طلبہ کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں جنہوں نے مسابقتی امتحانات کی تیاری میں برسوں صرف کیے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ محض چند امتحانات تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے جس نے تعلیمی مواقع، میرٹ اور نوجوانوں کی امیدوں کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیٹ(NEET) سے لے کر مختلف بھرتی اور داخلہ امتحانات تک طلبہ کو بار بار دھوکا دیا گیا ہے۔ ان کے بقول نوجوانوں کی محنت، وقت اور قربانی کو بدعنوانی، لاپروائی اور انتظامی ناکامی نے برباد کر دیا، جبکہ حکومت ان معاملات پر سنجیدہ جواب دہی کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ | Paper Leak Crisis
محمد الماس خان نے سوال اٹھایا کہ جب بار بار تنازعات سامنے آ رہے ہیں اور امتحانی نظام کی ساکھ مجروح ہو چکی ہے تو پھر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے پر کیسے برقرار رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کروڑوں طلبہ مشکلات سے دوچار ہوں اور امتحانات پر عوامی اعتماد کمزور پڑ جائے تو وزیر تعلیم اخلاقی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں مطالبہ کیا کہ دھرمیندر پردھان کو اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوری استعفیٰ دینا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر حکومت واقعی طلبہ کے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو اسے صرف بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور نظامی اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا۔
الماس خان نے بی جے پی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ جو لوگ ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں، انہیں نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پہلے “آندولن جیوی” کہہ کر بدنام کیا گیا اور اب انصاف مانگنے والے طلبہ کی آواز سننے کے بجائے انہیں نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو ایک جمہوری حکومت کے رویے پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
راہل گاندھی کی حمایت اور طلبہ تحریک پر زور | Paper Leak Crisis
تلنگانہ یوتھ کانگریس رہنما نے قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلسل طلبہ کے ساتھ کھڑے ہو کر پیپر لیکس کا معاملہ اٹھایا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حکومت مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دی۔ ان کے مطابق راہل گاندھی نے ان طلبہ کی آواز کو قومی سطح پر پہنچایا جن کے مواقع اور مستقبل کو امتحانی بے ضابطگیوں نے متاثر کیا۔
محمد الماس خان نے انڈین یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کی جانب سے شروع کی گئی ملک گیر مہم “چھاترون کی گونج” کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ تحریک طلبہ کے مسائل کو ملک کے ہر ضلع اور شہر تک لے جائے گی۔ ان کے مطابق اب خاموشی کا وقت گزر چکا ہے اور وہ نسل، جسے طویل عرصے تک نظر انداز کیا گیا، اب انصاف، جواب دہی اور اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے منظم آواز اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ “چھاترون کی گونج” محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو نوجوانوں کے حقوق، شفاف امتحانی نظام اور حکومتی جواب دہی کے لیے میدان میں اتری ہے۔ چنانچہ انہوں نے امتحانی گھوٹالوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی، امتحانات کی ساکھ بحال کرنے کے لیے فوری اصلاحات اور مرکزی حکومت سے واضح جواب دہی کا مطالبہ کیا۔
اپنے بیان کے اختتام پر الماس خان نے کہا کہ ہندوستان کا نوجوان اب بہانے نہیں بلکہ جواب مانگ رہا ہے۔ یوں ان کے مطابق پیپر لیکس کا یہ بحران صرف امتحانی بدعنوانی کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ نوجوانوں کے مستقبل، اعتماد اور ملک کے تعلیمی نظام کی ساکھ سے جڑا ہوا ایک بڑا قومی سوال بن چکا ہے۔
