Women Empowerment
حیدرآباد ۔ وزیر محنت، روزگار، تربیت، فیکٹریز اور مائنز ڈاکٹر جی وویک وینکٹ سوامی نے کہا ہے کہ اگر خواتین کو مواقع اور حوصلہ افزائی دی جائے تو وہ ہر میدان میں غیر معمولی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہیں اور ایسی مثالیں قائم کر سکتی ہیں جو سماج کے لیے نئی سمت متعین کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی صلاحیتوں پر کوئی حد عائد نہیں کی جا سکتی، اصل ضرورت انہیں مناسب مواقع، اعتماد اور سازگار ماحول فراہم کرنے کی ہے۔
ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی بدھ کے روز جوبلی ہلز کنونشن سینٹر، حیدرآباد میں ویٹا یعنی ویمن ایمپاورمنٹ تیلگو ایسوسی ایشن کے انڈیا چیپٹر کے آغاز کے سلسلے میں منعقدہ ویمن ایمپاورمنٹ کانفرنس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں خواتین کی خودمختاری، روزگار کے مواقع اور دیہی خواتین کے عالمی اثرات جیسے اہم موضوعات زیر بحث آئے، جبکہ تقریب میں خواتین، نوجوان پیشہ ور افراد اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
یہ پروگرام ویٹا کی بانی ہنومندلا جھانسی ریڈی کی قیادت میں منعقد کیا گیا، جس میں وزراء سیتکا، پونم پربھاکر اور اڈلوری لکشمن سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب نے اس بات کو نمایاں کیا کہ تلنگانہ میں خواتین کی شمولیت، معاشی خودمختاری اور قیادت کے امکانات کو ایک منظم سماجی تحریک کی صورت میں آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خطاب کے دوران ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی نے ویٹا جیسی تنظیموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز خواتین کو معاشی، سماجی اور سیاسی طور پر مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی تنظیمیں مزید وسعت اختیار کریں گی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے اپنے پروگراموں اور سرگرمیوں کو زیادہ منظم انداز میں آگے بڑھائیں گی۔
خواتین کی کامیابی میں مواقع اور حمایت کی اہمیت | Women Empowerment
وزیر نے ویٹا کی بانی ہنومندلا جھانسی ریڈی کے سفر کو بے حد متاثر کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک گھریلو خاتون سے کامیاب کاروباری شخصیت بننے تک ان کا سفر اس حقیقت کی مضبوط مثال ہے کہ خواتین کو اگر درست مواقع اور تعاون میسر ہو تو وہ غیر معمولی بلندیوں تک پہنچ سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھانسی ریڈی نے امریکہ میں ویٹا کی بنیاد رکھی اور اب اس کے دائرہ کار کو ہندوستان تک وسیع کیا ہے، جو ان کی بصیرت، قیادت اور عزم کا ثبوت ہے۔
انہوں نے یشسوینی ریڈی جیسی خواتین قائدین کی بھی تعریف کی، جنہوں نے گھریلو زندگی سے نکل کر عوامی زندگی میں فعال کردار ادا کیا، لوگوں کا اعتماد حاصل کیا اور مؤثر قیادت کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ خواتین صرف خاندانی ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ وہ سماجی اور سیاسی سطح پر بھی مضبوط کردار ادا کر سکتی ہیں، اس لیے سیاست اور فیصلہ سازی کے اداروں میں ان کی شرکت بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ خواتین تعلیم، روزگار، کاروبار، انتظامیہ اور سیاست سمیت تقریباً ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ ان کے مطابق سماج کی ترقی میں خواتین کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے اور اگر خواتین کی فعال شمولیت نہ ہو تو جامع اور متوازن ترقی کا تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
خاندانی تعاون اور سماجی شناخت پر زور | Women Empowerment
وزیر نے کہا کہ ان کے اپنے خاندان کی خواتین نے تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی اور کاروبار میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اگر گھر کے اندر اعتماد، احترام اور تعاون کی فضا ہو تو خواتین اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر خاص زور دیا کہ خواتین کی کامیابی میں خاندانی حمایت، خصوصاً مردوں کی حوصلہ افزائی، نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے خاندانوں سے اپیل کی کہ وہ خواتین کے وقت، محنت اور خوابوں کا احترام کریں اور ان کی خواہشات و عزائم کو سنجیدگی سے لیں۔ مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ وہ خواتین جو ایک طرف اپنے خاندان کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں اور دوسری طرف سماج کی ترقی میں بھی حصہ ڈالتی ہیں، ان کی آواز کو زیادہ مضبوطی سے سنا جانا چاہیے تاکہ ان کے تجربات اور قیادت کو وسیع سماجی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
ڈاکٹر وویک وینکٹ سوامی نے کہا کہ اعتماد، خودیقینی اور مضبوط ارادے کے ساتھ خواتین اپنے لیے مقرر کردہ ہر ہدف حاصل کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ویٹا انڈیا تلنگانہ چیپٹر کے تحت ترتیب دیے جانے والے پروگرام خواتین، نوجوان لڑکیوں اور طلبہ کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر نے ویٹا کی بانی ہنومندلا جھانسی ریڈی، منتظمین اور تنظیم کے تمام اراکین کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ چنانچہ انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کی کوششیں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں تو تلنگانہ میں خواتین کی خودمختاری، قیادت اور معاشی شمولیت کو نئی رفتار مل سکتی ہے، جس کے اثرات سماج اور معیشت دونوں پر مثبت انداز میں مرتب ہوں گے۔
