Cultural Revival
حیدرآباد ۔ تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا نے فنون لطیفہ اور ثقافت کے فروغ کے لیے محکمہ ثقافت، محکمہ سیاحت اور محکمہ اوقاف کے درمیان قریبی رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان محکموں کے مربوط انداز میں کام کرنے سے نہ صرف روایتی فنون کا تحفظ ممکن ہوگا بلکہ فنکاروں کے لیے پائیدار روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکیں گے۔
وہ رویندر بھارتی میں منعقدہ اردھ ناریشورم نیشنل ڈانس فیسٹیول میں بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب میں مختلف ریاستوں سے آئے فنکاروں اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی۔
بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ ماضی میں مندروں کے احاطے فنون لطیفہ، موسیقی اور ثقافتی سرگرمیوں کے اہم مراکز ہوا کرتے تھے۔ مزید برآں، قدیم حکمران رقص اور دیگر فنون کے ذریعے عوام تک مذہبی اور سماجی پیغامات مؤثر انداز میں پہنچاتے تھے۔
سیاحت اور فنون کا اشتراک | Cultural Revival
نائب وزیر اعلیٰ نے تجویز پیش کی کہ تلنگانہ میں کیرالا طرز کے ماڈل کو متعارف کرایا جائے جہاں اہم سیاحتی مقامات پر مقامی ثقافتی پروگراموں اور فنون کا باقاعدہ انعقاد ہو۔ ان کے مطابق اس اقدام سے سیاحوں کو منفرد ثقافتی تجربہ حاصل ہوگا جبکہ فنکاروں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ شام کے اوقات میں سیاحتی مراکز پر ثقافتی پرفارمنس نہ صرف تفریح کا ذریعہ بن سکتی ہیں بلکہ ریاست کی ثقافتی شناخت کو بھی مضبوط بنا سکتی ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لیے متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔
مزید یہ کہ حکومت مندروں اور سیاحتی مراکز دونوں میں روایتی فنون کو فروغ دینے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ محکمہ ثقافت، محکمہ سیاحت اور محکمہ اوقاف کی مشترکہ کوششوں سے اس شعبے میں نمایاں نتائج حاصل ہوں گے۔
اسی دوران وزیر سیاحت و ثقافت جوپلی کرشنا راو نے بھی تقریب میں شرکت کی اور نائب وزیر اعلیٰ کے ہمراہ مختلف فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں اعزازات سے نوازا۔
اردھ ناریشورم کا پیغام | Cultural Revival
فیسٹیول کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ اردھ ناریشورم مرد اور عورت کے درمیان مساوات اور ہم آہنگی کی علامت ہے۔ ان کے مطابق یہ تصور نسوانی اور مردانہ قوتوں کے متوازن امتزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تخلیق اور ترقی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب دونوں قوتیں باہمی احترام اور تعاون کے ساتھ ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔ لہٰذا اردھ ناریشورم کا فلسفہ معاشرے میں برابری اور باہمی احترام کے فروغ کا پیغام دیتا ہے۔
انہوں نے ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے فنکاروں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ اپنی مہمان نوازی کے لیے مشہور ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیسٹیول میں شریک فنکار یہاں کے خوشگوار تجربات اور یادگار لمحات اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔
تقریب کے دوران ملو بھٹی وکرمارکا اور جوپلی کرشنا راو نے متعدد فنکاروں کو اعزازات پیش کیے۔ اس موقع پر سنگیت ناٹک اکادمی کی چیئرپرسن الیکھیا پنجالا سمیت کئی معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔
