Buddhist Heritage
حیدرآباد ۔ وزیر سیاحت، ثقافت اور ایکسائز جوپلی کرشنا راو نے ضلع سوریہ پیٹ کے تاریخی بودھ مقام پھنی گیری میں تحفظ اور بحالی کے کاموں کا آغاز کرتے ہوئے اس مقام کی مجموعی ترقی کے لیے 5 کروڑ روپے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے رکن اسمبلی منڈولا سیموئیل کے ہمراہ پھنی گیری اور گاجولابنڈا بودھ مقامات پر ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا۔
یہ منصوبے تلنگانہ جینکو کے یادادری تھرمل پاور اسٹیشن کے سی ایس آر فنڈز سے مکمل کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق پھنی گیری میں بودھ آثار کے تحفظ کے لیے 1.60 کروڑ روپے جبکہ گاجولابنڈا میں بحالی اور تحفظ کے کاموں کے لیے 23 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
جوپلی کرشنا راو نے کہا کہ ریاستی حکومت تلنگانہ کے قدیم بودھ ورثے کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ مزید برآں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی اور ثقافتی ورثے کی حفاظت آئندہ نسلوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
پھنی گیری کو عالمی سیاحتی نقشے پر لانے کی کوشش | Buddhist Heritage
وزیر نے پھنی گیری کو جنوبی ہند کے اہم ترین بودھ مراکز میں سے ایک قرار دیا۔ ان کے مطابق بودھ مت امن، عدم تشدد اور انسانی اقدار کی علامت ہے، اس لیے اس تاریخی ورثے کا تحفظ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت پھنی گیری اور گاجولابنڈا جیسے تاریخی مقامات کو قومی اور بین الاقوامی بودھ سیاحتی نقشے پر نمایاں مقام دلانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ دریں اثنا انہوں نے کہا کہ ان مقامات کی تاریخی اہمیت بے حد وسیع ہے۔
جوپلی کرشنا راو کے مطابق کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے مجسمے، کتبے اور سکے تلنگانہ کی شاندار تاریخ اور ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ ان مقامات کی ترقی سے تاریخی سیاحت کو فروغ ملے گا اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سڑک، سیڑھیوں اور سیاحتی سہولیات کے لیے فنڈز | Buddhist Heritage
رکن اسمبلی منڈولا سیموئیل کی درخواست پر وزیر نے پھنی گیری مقام کی جامع ترقی کے لیے 5 کروڑ روپے منظور کیے۔ یہ رقم مرکزی شاہراہ سے مقام تک رابطہ سڑک کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی تاکہ سیاحوں کی رسائی آسان بنائی جا سکے۔
اس کے علاوہ پہاڑی کی چوٹی پر موجود تاریخی یادگار تک پہنچنے کے لیے نئی سیڑھیاں تعمیر کی جائیں گی۔ مزید برآں مختلف سیاحتی سہولیات اور زائرین کے لیے بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتر بنایا جائے گا۔
وزیر نے کہا کہ ایسے منصوبے نہ صرف تاریخی ورثے کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ دیہی معیشت کو بھی مضبوط کریں گے۔ اس لیے حکومت تاریخی مقامات کی ترقی کو ریاستی سیاحتی پالیسی کا اہم حصہ بنا رہی ہے۔
تقریب میں ضلع کلکٹر تیجس نندلال پوار، ایس پی نرسمہا، محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ارجن راو اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی اور منصوبوں کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔
