Rural Employment
حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ ذیلی کمیٹی نے مجوزہ وی بی-جی رام جی ایکٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کے بعض پہلو دیہی آبادی اور ریاستی مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس آبپاشی کے وزیر این اتم کمار ریڈی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مجوزہ قانون اور اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران اراکین نے نشاندہی کی کہ مرکزی حکومت یکم جولائی سے مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار ضمانت قانون (منریگا) کی جگہ نیا نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمیٹی کے مطابق مجوزہ قانون کی بعض دفعات کمزور اور محروم دیہی طبقات کو حاصل موجودہ تحفظات کو کمزور کر سکتی ہیں۔
ریاستوں کے اختیارات میں کمی کا خدشہ | Rural Employment
کمیٹی کے اراکین نے مشاہدہ کیا کہ مجوزہ فریم ورک کی بعض شقیں روزگار ضمانت پروگراموں میں ریاستی حکومتوں کے کردار کو محدود کر سکتی ہیں۔ مزید برآں ان کا کہنا تھا کہ اس نئے نظام کے باعث ریاستوں پر مالی بوجھ میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
اسی دوران اجلاس میں ان خدشات کا بھی جائزہ لیا گیا جو مختلف غیر بی جے پی زیرِ اقتدار ریاستوں کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں۔ کمیٹی کے مطابق شمال مشرقی خطے کی بعض ریاستوں نے بھی اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ ہماچل پردیش جیسی ریاستوں نے ابھی تک اس فریم ورک کو قبول نہیں کیا۔
مزدوروں اور کسانوں کے تحفظ کے لیے سفارشات | Rural Employment
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی ایسی ترامیم کی سفارش کرے گی جن کے ذریعے مزدوروں، سیلف ہیلپ گروپس، دیہی خاندانوں اور چھوٹے کسانوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ علاوہ ازیں ریاستوں کو مقامی ضروریات کے مطابق پروگرام ترتیب دینے کے لیے زیادہ لچک فراہم کرنے کی بھی سفارش کی جائے گی۔
کمیٹی نے طے کیا کہ حتمی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد تلنگانہ کے تحفظات اور تجاویز مرکزی حکومت کو ارسال کی جائیں گی۔ اراکین کا کہنا تھا کہ ریاستی مفادات اور دیہی عوام کی فلاح کو ہر صورت میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔
مہاتما گاندھی کے نام کے خاتمے پر تنقید | Rural Employment
این اتم کمار ریڈی نے پروگرام سے مہاتما گاندھی کا نام ہٹانے کی تجویز پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے اس اقدام کو غیر ضروری اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام برسوں سے دیہی روزگار کے ایک اہم ستون کے طور پر کام کر رہا ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ ملک بھر میں متعدد کسان اور مزدور تنظیمیں بھی اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق دیہی روزگار سے متعلق کسی بھی اصلاحات میں مزدوروں اور کسانوں کے مفادات کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
