Cyber Fraud Alert
حیدرآباد ۔ تلنگانہ میں ڈاکٹرز بڑے پیمانے پر سائبر جرائم کا شکار بن رہے ہیں اور گزشتہ 2 برسوں کے دوران انہیں تقریباً 30 کروڑ روپے کا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو کے مطابق مختلف آن لائن دھوکہ دہی کے واقعات نے طبی شعبے سے وابستہ افراد کو شدید متاثر کیا ہے۔
بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2024 سے اب تک 735 ڈاکٹرز سائبر فراڈ کا شکار بن چکے ہیں۔ متاثرہ افراد کو مجموعی طور پر 29.88 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
حکام کے مطابق سرمایہ کاری اور کاروبار سے متعلق فراڈ سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ ان دھوکہ دہیوں کے باعث ہی 22 کروڑ روپے سے زائد کی رقم ضائع ہوئی۔
مزید برآں متعدد ڈاکٹرز ڈیجیٹل گرفتاری، شناخت کی چوری اور جعل سازی پر مبنی فراڈ کا بھی شکار ہوئے۔ اسی دوران گمراہ کن آن لائن اشتہارات کے ذریعے بھی طبی ماہرین کو نشانہ بنایا گیا۔
مختلف طریقوں سے سائبر حملے | Cyber Fraud Alert
تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو کے مطابق سائبر مجرموں نے ملازمت کے جعلی مواقع، کرپٹو کرنسی فراڈ، یو پی آئی دھوکہ دہی، قرض فراڈ اور جنسی بلیک میلنگ جیسے طریقوں سے بھی متاثرین کو نشانہ بنایا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ عناصر مسلسل نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ چنانچہ صرف تعلیمی قابلیت یا پیشہ ورانہ حیثیت کسی فرد کو ان جرائم سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔
اسی تناظر میں بیورو کی ڈائریکٹر شکھا گوئل نے ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم کالز، مشکوک پیغامات اور غیر معمولی سرمایہ کاری کی پیشکشوں پر فوری اعتماد نہیں کرنا چاہیے۔
فوری شکایت کی اہمیت | Cyber Fraud Alert
شکھا گوئل کے مطابق سائبر فراڈ کے واقعات میں بروقت شکایت درج کرانے سے رقم کی واپسی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مزید برآں فوری کارروائی کے ذریعے مشتبہ لین دین کو منجمد کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
تلنگانہ سائبر سکیورٹی بیورو نے عوام سے اپیل کی ہے کہ مالی نوعیت کے سائبر فراڈ کی صورت میں بلا تاخیر شکایت درج کرائیں۔ حکام کے مطابق بروقت اطلاع سے تفتیشی اداروں کو مؤثر کارروائی کا موقع ملتا ہے۔
بیورو نے متاثرین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سائبر مالیاتی جرائم کی اطلاع قومی ہیلپ لائن 1930 پر دیں یا سرکاری سائبر کرائم پورٹل کے ذریعے شکایت درج کرائیں تاکہ ممکنہ حد تک نقصان کی تلافی کی جا سکے۔
