Recruitment Demand
حیدرآباد ۔ حیدرآباد کے علاقے دل سکھ نگر میں جمعہ کے روز پولیس ملازمتوں کے خواہشمند سینکڑوں امیدواروں نے احتجاج کیا اور آئندہ بھرتی نوٹیفکیشن میں کانسٹیبل آسامیوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے کہا کہ موجودہ مجوزہ تعداد امیدواروں کی توقعات کے مطابق نہیں ہے۔ مزید برآں انہوں نے حکومت سے فوری طور پر نوٹیفکیشن پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
احتجاجی امیدوار سائی بابا مندر کے قریب جمع ہوئے اور دھرنا شروع کر دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کانسٹیبل آسامیوں کی تعداد 5,000 سے بڑھا کر 20,000 کی جائے۔ تاہم احتجاج کے باعث علاقے میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
صورتحال کے پیش نظر پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ دریں اثنا سڑک پر دھرنا جاری رکھنے کے باعث امیدواروں اور پولیس کے درمیان مختصر تلخ کلامی بھی ہوئی۔ بعد ازاں کئی مظاہرین کو مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کر دیا گیا۔
بھرتی نوٹیفکیشن پر اعتراضات | Recruitment Demand
احتجاج کے دوران بے روزگار امیدواروں نے الزام عائد کیا کہ حکومت ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ 5,000 آسامیوں کا اعلان ہزاروں امیدواروں کی توقعات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ مزید برآں متعدد امیدوار کئی برسوں سے بھرتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں اور زیادہ مواقع کے منتظر ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئندہ نوٹیفکیشن میں آسامیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق ریاست میں اہل امیدواروں کی بڑی تعداد موجود ہے، لہٰذا محدود آسامیوں سے بے روزگار نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے بھرتی کے عمل کو مزید وسیع بنانے پر زور دیا۔
عمر میں رعایت کا مطالبہ | Recruitment Demand
امیدواروں نے پولیس بھرتی کے لیے عمر کی حد میں رعایت کے معاملے پر بھی وضاحت طلب کی۔ ان کا سوال تھا کہ پہلے دستیاب عمر میں نرمی کی سہولت کو کیوں جاری نہیں رکھا گیا۔ مزید برآں انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سلسلے میں واضح پالیسی کا اعلان کرے تاکہ امیدوار غیر یقینی صورتحال سے باہر آ سکیں۔
احتجاجی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو تحریک کو ریاست بھر میں وسعت دی جائے گی۔ دوسری جانب انہوں نے حکومت سے نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری کرنے اور 20,000 کانسٹیبل آسامیوں کا اعلان کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
بعد ازاں ٹریفک پولیس نے احتجاجی مقام کو خالی کرا کے گاڑیوں کی آمدورفت بحال کر دی۔ تاہم امیدواروں نے واضح کیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں آئندہ دنوں میں مزید احتجاجی پروگرام ترتیب دیے جائیں گے۔
