Future Metropolis
حیدرآباد ۔ وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے دفتر کا افتتاح کرتے ہوئے بھارت فیوچر سٹی کے سرکاری پورٹل کا بھی آغاز کیا۔ انہوں نے اس منصوبے کو تلنگانہ کے مستقبل کے لیے ایک انقلابی اقدام قرار دیا اور کہا کہ یہ ریاست کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے اصولی طور پر بھارت فیوچر سٹی کی حدود میں مزید دیہات شامل کرنے کی منظوری بھی دی۔ یہ فیصلہ مختلف گرام پنچایتوں کی جانب سے موصول ہونے والی درخواستوں کے بعد کیا گیا جبکہ باقی دیہات کی تجاویز پر بھی حکومت غور کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت فیوچر سٹی مستقبل میں عالمی سطح پر پہچان رکھنے والا شہری مرکز بنے گا۔ مزید برآں اسے ایک ماڈل نیٹ زیرو سٹی کے طور پر ترقی دی جائے گی جہاں پائیدار ترقی کے اصولوں کو ترجیح دی جائے گی۔
عالمی معیار کی شہری ترقی کا منصوبہ | Future Metropolis
اے ریونت ریڈی نے کہا کہ منصوبے کے تحت جھیلوں اور قدرتی چٹانی ڈھانچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ شہر موجودہ اور آنے والی نسلوں دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر میں منصوبے کے آغاز کے بعد صرف 150 دن میں فیوچر سٹی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا دفتر مکمل کر لیا گیا۔ چنانچہ اس کامیابی کا سہرا مؤثر منصوبہ بندی اور تیز رفتار عمل درآمد کو جاتا ہے۔
دریں اثنا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ بھٹی وکرامارکا اور وزیر ڈی شری دھر بابو باقاعدگی سے اتھارٹی کے دفتر کا دورہ کریں گے۔ وہ مقامی مسائل کے حل اور منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لیتے رہیں گے۔
سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع | Future Metropolis
وزیر اعلیٰ نے حکام کو طویل مدتی ترقیاتی منصوبے تیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت فیوچر سٹی 2034 تک تلنگانہ کو 1 ٹریلین ڈالر معیشت بنانے کے ہدف میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ ان کے مطابق اگلے 8 برسوں میں یہ شہر دنیا کے نمایاں شہری مراکز کا مقابلہ کرنے کے قابل ہوگا۔
مزید برآں منصوبے میں گرین فارما، کھیل، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت کی سہولیات، ڈیٹا سینٹرز، گلوبل کیپبیلٹی سینٹرز اور فارچیون 500 کمپنیوں کو بھی جگہ فراہم کی جائے گی۔
ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ دسمبر میں اسی مقام پر ایک اور عالمی سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ تقریب نئی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
دوسری جانب حالیہ بارشوں کے دوران حیدرآباد میں پیدا ہونے والی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جھیلوں، تالابوں اور نکاسی آب کے راستوں پر تجاوزات کو شہری سیلاب کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے اور آبی ذخائر کی بحالی کا عمل جاری رکھے گی تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔
