حیدرآباد ۔ تلنگانہ حکومت نے ریاستی تحریک میں حصہ لینے والے کارکنوں کی خدمات اور قربانیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد تلنگانہ تحریک کے دوران سرگرم کردار ادا کرنے والے افراد کی شناخت کرنا اور ان کی جدوجہد کو مناسب انداز میں سراہنا ہے۔ مزید یہ کہ حکومت نے اس فیصلے کو تحریک سے وابستہ قربانیوں کے اعتراف کی اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن نے جمعہ کے روز وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی کی ہدایات کے بعد جی او آر ٹی نمبر 679 جاری کیا۔ حکومت کے مطابق ریاستی تحریک کے دوران کئی کارکنوں نے اپنی جانیں قربان کیں جبکہ متعدد افراد جسمانی معذوری کا شکار ہوئے۔
اسی دوران کئی کارکنوں کو احتجاجی سرگرمیوں کے باعث مقدمات اور قید و بند جیسی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لہٰذا حکومت نے ان خدمات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے منظم طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
کمیٹی کی قیادت اور اراکین | Movement Recognition
حکومت کے مشیر ڈاکٹر کے کیشو راو کو کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر پونم پربھاکر، ایم ایل سی پروفیسر کودنڈا رام، ایم ایل سی اور سرکاری وہپ ادنکی دیاکر، سابق ایم ایل سی ایس رامولو نائک اور موتھے شوبھن ریڈی کو بطور رکن شامل کیا گیا ہے۔
مزید یہ کہ محکمہ جنرل ایڈمنسٹریشن کے پولیٹیکل سکریٹری کو کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ دریں اثنا حکومت نے کمیٹی کو مکمل اختیارات بھی تفویض کیے ہیں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے سکے۔
شناختی ضوابط اور سفارشات | Movement Recognition
کمیٹی سب سے پہلے تلنگانہ تحریک کے کارکنوں کی شناخت کے لیے واضح رہنما اصول تیار کرے گی۔ اس کے بعد انہی ضوابط کی بنیاد پر مستحق افراد کی فہرست مرتب کی جائے گی۔
مزید یہ کہ کمیٹی حکومت کو یہ سفارش بھی پیش کرے گی کہ مستحق کارکنوں کو کس نوعیت کے اعزازات، سہولیات یا سرکاری اعترافات فراہم کیے جائیں۔ لہٰذا اس عمل کے ذریعے ایک منظم اور شفاف نظام متعارف ہونے کی توقع ہے۔
حکومت نے کمیٹی کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر مختلف محکموں کے افسران کو طلب کیا جا سکے، معلومات جمع کی جائیں اور اجلاس منعقد کیے جائیں۔ اسی دوران کمیٹی ضرورت کے مطابق دیگر ماہرین اور متعلقہ شخصیات سے بھی مشاورت کر سکے گی۔
حکومت نے کمیٹی کو جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ علاوہ ازیں تمام سرکاری محکموں اور سکریٹریز کو کمیٹی کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
