حیدرآباد ۔ سرسلہ میں بی آر ایس کی جانب سے کیے گئے احتجاج کے بعد کشیدہ صورتحال پیدا ہوگئی جب پولیس نے مرکزی وزیر بنڈی سنجے کے دورے سے قبل کئی پارٹی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ بی آر ایس قائدین نے الزام لگایا کہ بنڈی سنجے نے پارٹی کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راو کے خلاف ذاتی نوعیت کے ریمارکس کیے ہیں۔
بی آر ایس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بنڈی سنجے سرسلہ آنے سے قبل کے ٹی راما راو سے غیر مشروط معافی مانگیں۔ پارٹی قائدین نے خبردار کیا کہ معافی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
پولیس نے بی آر ایس رہنماؤں کی احتجاجی کال کے بعد صبح سویرے احتیاطی اقدامات کے تحت مختلف مقامات پر کارروائی کرتے ہوئے کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا۔ اس دوران شہر میں سیاسی ماحول کشیدہ ہوگیا۔
پولیس کی احتیاطی کارروائیاں | BRS Protest Tension
’’پولیس نے سرسلہ ٹاؤن صدر جندم چکراپانی اور میونسپل نائب صدر دارلا سندیپ کو ان کے گھروں میں نظر بند کردیا۔ علاوہ ازیں، سابق ضلع سرپنچس فورم صدر ماتلا مدھو سمیت کئی بی آر ایس رہنماؤں کو سرسلہ بائی پاس روڈ کے قریب حراست میں لیا گیا۔‘‘
بعد ازاں پولیس نے تمام حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ اس دوران بی آر ایس کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان شدید بحث و تکرار بھی دیکھنے میں آئی۔
بی آر ایس رہنماؤں نے پولیس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیاسی دباؤ کے تحت احتجاج کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بنڈی سنجے کے خلاف نعرے بازی | BRS Protest Tension
احتجاج کے دوران بی آر ایس کارکنوں نے بنڈی سنجے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور فوری معافی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کے ٹی راما راو کے خلاف ذاتی تبصرے ناقابل قبول ہیں۔
’’دریں اثنا، احتجاجی مقامات پر کشیدہ ماحول برقرار رہا جبکہ پولیس نے اضافی نفری تعینات کرکے حالات قابو میں رکھنے کی کوشش کی۔ میونسپل کونسلرز، سرپنچس اور کئی مقامی بی آر ایس رہنما بھی زیر حراست افراد میں شامل تھے۔‘‘
سیاسی مبصرین کے مطابق اس واقعے کے بعد سرسلہ میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آسکتی ہے۔
