حیدرآباد ۔ تلنگانہ کسان کمیشن کے چیئرمین کودنڈا ریڈی اور کمیشن کے دیگر اراکین نے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی سے جوبلی ہلز میں واقع ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر کمیشن کی جانب سے تیار کی گئی فصلوں کے تنوع سے متعلق رپورٹ حکومت کو پیش کی گئی۔ مزید برآں اجلاس میں ریاست کی مستقبل کی زرعی پالیسی اور کاشتکاری کے بدلتے رجحانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں وزیر واکیٹی سری ہری بھی شریک رہے۔ حکومت نے مختلف اضلاع میں زرعی پیداوار، پانی کے استعمال اور کسانوں کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی پر غور شروع کردیا ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ رپورٹ پر فوری فیصلہ نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کا مکمل جائزہ لیا جائے گا۔
زرعی منصوبہ بندی پر غور | Crop Diversification
وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت فصلوں کے تنوع سے متعلق سفارشات کا تفصیلی مطالعہ کرے گی۔ انہوں نے اس معاملے کو ریاست کی معیشت اور کسانوں کے مستقبل سے جوڑتے ہوئے کہا کہ پائیدار زراعت کے لیے نئی پالیسی ناگزیر بنتی جارہی ہے۔ اسی دوران انہوں نے کسان کمیشن کو مزید تعمیری اور عملی سفارشات تیار کرنے کی ہدایت بھی دی۔
انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں ایک ہی قسم کی فصلوں پر انحصار کے باعث کسانوں کو مالی دباؤ، مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور موسمی مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لہٰذا حکومت ایسی پالیسی تیار کرنا چاہتی ہے جس سے کسانوں کی آمدنی میں استحکام پیدا ہوسکے اور زرعی وسائل کا بہتر استعمال ممکن بنایا جاسکے۔
اسمبلی مباحثہ اور مستقبل کی پالیسی | Crop Diversification
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ حکومت فصلوں کے تنوع اور زرعی پالیسیوں پر خصوصی اسمبلی مباحثہ منعقد کرنے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں اور ماہرین کی رائے لینے کے بعد ہی حتمی پالیسی تشکیل دی جائے گی۔ مزید یہ کہ حکومت کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار فیصلے کرے گی۔
کسان کمیشن کے سینئر اراکین نے بھی تلنگانہ میں مستقبل کی زرعی منصوبہ بندی پر اپنی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ موسمی تبدیلیوں، پانی کی قلت اور منڈی کے بدلتے حالات کے مطابق کاشتکاری کے طریقوں میں تبدیلی ضروری ہوچکی ہے۔ اسی لیے حکومت اب جامع زرعی اصلاحات کی سمت میں پیش رفت کررہی ہے۔
Farmer Commission Chairman Kodanda Reddy and commission members met Honourable Chief Minister Sri A. @revanth_anumula at his Jubilee Hills residence. The Commission submitted a report on crop diversification.
Minister @Vakiti_srihari also participated in the meeting.
Key… pic.twitter.com/8UimajjJdP
— IPRDepartment (@IPRTelangana) May 5, 2026
آخر میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسانوں کی فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے اور زرعی شعبے کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ رپورٹ کی سفارشات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا تاکہ تلنگانہ میں زراعت کو زیادہ منافع بخش اور پائیدار بنایا جاسکے۔
